دنیا بھر سے

جرمنی: بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 12-Nov-2019

برلن،جرمنی میں سن دو ہزار سترہ اور اٹھارہ کے درمیان مزید تقریبا 30 ہزار شہری بے گھر ہو گئے ہیں۔ ایسے بے گھر شہریوں کی صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے، جو کسی دوسرے ملک کا پس منظر رکھتے ہیں۔جرمن حکومت کی طرف سے جاری کردہ نئے اعداد و شمار کے مطابق سن دو ہزار سترہ سے دو ہزار اٹھارہ کے درمیان بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد میں چار فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔ جرمن حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سن دو ہزار اٹھارہ میں تقریباً چھ لاکھ اٹھہتر ہزار شہری ایسے تھے، جن کی کوئی مستقل رہائش نہ ہو۔ جرمنی میں بے گھر افراد سے متعلق اعداد و شمار جمع کرنے والے ادارے بی اے جی کا کہنا تھا کہ سن دو ہزار سترہ میں یہ تعداد تقریباً چھ لاکھ پچاس ہزار تھی۔اس ادارے کے مطابق ان میں سے اکتالیس ہزار ایسے جرمن شہری ہیں، جو سڑکوں یا ریلوے اسٹیشنوں پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جی اے جی کی سربراہ ورینا روزینکے کا جرمن میڈیا گروپ فْنکے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ” سال دو ہزار سترہ کی نسبت یہ چار عشاریہ دو فیصد کا اضافہ ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ کسی دوسرے ملک کا پس منظر رکھنے والے بے گھر افراد کی صورتحال مزید خراب ہے، بہ نسبت ان بے گھر افراد کے، جو جرمن ہیں۔ جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق ایسے جرمن شہری جن کا کوئی غیر ملکی پس منظر نہیں ہے، ان کی تعداد میں صرف ایک عشاریہ دو فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ جبکہ غیر ملکی نڑاد بے گھر ہونے والے جرمن شہریوں میں یہ شرح تقریباً چھ فیصد رہی۔ورینا روزینکے کا کہنا تھا کہ بے گھر افراد کی تعداد میں اضافہ ملک میں مکانوں کے بڑھتے ہوئے کرایوں اور قیمتوں کی وجہ سے ہوا ہے جبکہ سوشل ہاؤسنگ میں بچتی اقدامات نے بھی غربت میں اضافہ کر دیا ہے۔حال ہی میں جاری ہونے والے ایک تحقیقی جائزے کے مطابق جرمنی میں ایک چوتھائی شہریوں کی جیب مہینے کے آخر میں خالی ہو جاتی ہے۔ اٹھائیس فیصد عوام ایک مہینے میں پچاس یورو سے زیادہ نہیں بچا پاتے جس کی وجہ سے وہ بڑھاپے میں غربت کے خطرے سے دوچار ہیں۔جرمن شہریوں کی اکثریت کا سب سے زیادہ خرچہ رہائش پر اٹھتا ہے اور قریب ہر تیسرا شہری اپنی ماہانہ آمدن کا 30 فیصد کرائے اور رہائش پر اٹھنے والے دیگر اضافی اخراجات پر صرف کر دیتا ہے۔ دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ خرچہ اشیائے خورد و نوش پر اٹھتا ہے جو اوسط آمدنی کا 19 فیصد ہے جب کہ ہر مہینے نو فیصد آمدن ٹرانسپورٹ پر خرچ ہو جاتی ہے۔

About the author

Taasir Newspaper