ہندستان ہندوستان

قومی اردوکونسل کے صدر دفترمیںیوم تعلیم کا اہتمام

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 12-Nov-2019

نئی دہلی(پریس ریلیز)مولانا ابوالکلام آزاد کا شمار دنیا کی ان منتخب ہستیوں میں ہوتا ہے جو صدیوں میں پیداہوتی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان جیسے جہاں دیدہ ہمہ گیر اور ہمہ جہت رہنما بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔ مولانا ابو الکلام آزاد بے پناہ خوبیوں اور صلاحیتوں کے مالک تھے۔ وہ ہندو مسلم اتحاد کے زبردست علمبردار تھے اور متحدہ ہندوستان ان کا خواب تھا۔ انھوں نے پورے ملک میں رواداری اور بھائی چارہ کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی، آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم کی حیثیت سے انھوں نے تعلیمی سطح پر بہت سے انقلابی اقدامات کیے اور ملک کے تعلیمی نظام کو استحکام بخشا ۔ اسی لیے حکومت ہند نے 11؍ نومبر کو ان کی یوم پیدائش کے موقع پر ملک بھر میں یوم تعلیم منانے کی ہدایت دی۔ یہ باتیںقومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے کونسل کے صدر دفتر میں منعقدہ یوم تعلیم کے موقع پر کہیں۔انھوں نے کہا کہ مولانا آزاد نے ہندوستان کو جس طرح متحد کرنے کی کوشش کی موجودہ وقت میں اس اتحاد کی بے حد ضرورت ہے۔اس موقع پر کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر سیدہ سیدین حمید نے مولانا آزاد کی پیدائش سے لے کر موت تک تمام باتوں کومربوط اور مبسوط ریقے سے پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ مولانا ابو الکلام آزاد کی پوری سیاسی زندگی متحدہ قومیت، رواداری کے لیے وقف تھی۔ ملک کی آزادی میں مولانا کی صحافتی کوششوں سے انکار ممکن نہیں ہے۔ انھوں نے انگریزوں کے ظلم و تشدد کے خلاف پوری قوم کو بیدار کرنے کیلئے ’الہلال ‘نامی رسالہ جاری کیا۔ اس پر پابندی لگنے کے بعد ’البلاغ ‘نامی رسالہ نکال کر مجاہدین آزادی کے اندر جذبہ تحرک کو بیدار کیا۔مولانا آزاد کو اس ملک سے بے پناہ محبت تھی۔ تقسیم ہند کے وقت مسلمان اپنے آبا و اجداد کی سرزمین چھوڑ کر پاکستان کوچ کر رہے تھے اس وقت مولانا آزاد نے جامع مسجد کی سیڑھیوں سے جذباتی تقریر کی جسے سننے کے بعدپاکستان جانے کا ارادہ مسلمانوں نے ترک کر دیا۔انھوں نے اس موقع پر کہا کہ مولانا آزاد کی ذاتی لائبریری میں لگ بھگ آٹھ ہزار کتابیں تھیںجسے انھوں نے ICCRکے حوالے کر دیا۔ ان کتابوں میں کچھ ایسی کتابیں تھیں جس پر مولانا آزاد نے پنسل سے حواشی لکھے تھے اس کے علاوہ ترجمان القرآن کے قلمی نسخے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس پر مزید کام کی ضرورت ہے ۔اس موقع پر پروفیسر عتیق اللہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی پرستی گرچہ بہت بڑا گناہ ہے لیکن ماضی کے ان حصوں کو تراش خراش کرنا چاہیے جو سڑ گل گیا ہے اور جو چیزیں اچھی ہیں ہمیں ان کو قبول کرنا چاہیے۔ آج مولانا آزاد کی باتوں کی بازیافت ضروری ہے اور یہ موجودہ وقت کا تقاضا بھی ہے۔ اپنی صدارتی تقریر میں پروفیسر شمیم حنفی نے کہا کہ مولانا آزاد کی بہت مخالفت ہوئی تھی مگر اب مولانا آزاد کے نظریات کی بازگشت صاف سنائی دے رہی ہے۔ ایک طرح سے مولانا آزاد کے نظریات کی پھر سے تجدید ہو رہی ہے۔ پروگرام کے آخر میں ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی نے تمام حضرات کا شکریہ ادا کیا۔ اس پروگرام میں دبئی کے مشہور شاعر جناب شاداب الفت اور بریلی سے جناب شارق کیفی مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک تھے۔ ان کے علاوہ پروفیسر توقیر عالم خان، پروفیسر دیوان حنان خان، ڈاکٹر ریاض احمد، ڈاکٹر ابو بکر عباد، جناب عبد السلام (یو این آئی) ، جناب معصوم مرادآبادی، جناب عقیل احمد (سکریٹری غالب اکیڈمی) کے ساتھ کونسل کاعملہ بھی موجود تھا۔

About the author

Taasir Newspaper