افغان فوجی کی اپنے ہی ساتھیوں پر فائرنگ، 23 ہلاک

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 16-Dec-2019

کابل،افغانستان میں کم از کم ایک فوجی اہلکار نے اپنے ہی ساتھیوں پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں 23 فوجی مارے جانے کی اطلاع ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ کارروائی ممکنہ طور پر طالبان سے تعلق رکھنے والے ایک فوجی نے انجام دی۔ایک جرمن خبر رساں ادارے کے مطابق فوج میں بھرتی طالبان کے ایک گروہ نے ملک کے جنوب مشرقی صوبہ غزنی میں فائرنگ کر کے 23 فوجی اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ مقامی کونسل کے ارکان عصمت اللہ جمرودوال اور امان اللہ کامران نے بتایا کہ یہ واقعہ ضلع قاراباغ میں قائم ایک فوجی اڈے پر پیش آیا۔اس واقعے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کر لی ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ اس واقعے میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد 32 ہے۔ تاہم آزاد ذرائع سے ہلاکتوں کی اصل تعداد کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو پائی۔افغان صوبہ غزنی میں اس طرح کے واقعات تواتر سے ہوتے رہتے ہیں جن کے پیچھے اکثر طالبان کا ہاتھ ہوتا ہے۔ حکام کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران اس صوبے کے مختلف اضلاع میں اس طرح کے حملوں میں درجنوں افغان فوجی مارے جا چکے ہیں۔خبروں کے مطابق صوبہ غزنی میں فوجی اہلکاروں کی کمی ہے اور اسی باعث جب نئے فوجیوں کو بھرتی کیا جاتا ہے تو اکثر ان کے پس منظر کو مناسب طور پر چیک نہیں کیا جاتا۔ حکام کے مطابق طالبان اس خامی کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور اکثر فوج میں اپنے ساتھیوں کو بھرتی کرا دیتے ہیں جو بعد ازاں اس طرح کے حملوں کا سبب بنتے ہیں۔دنیا بھر میں دہشت گردی سے متاثر ممالک میں افغانستان اس برس سر فہرست رہا۔ سن 2018 کے دوران افغانستان میں 1443 دہشت گردانہ واقعات ہوئے جن میں 7379 افراد ہلاک اور ساڑھے چھ ہزار افراد زخمی ہوئے۔ 83 فیصد ہلاکتیں طالبان کے کیے گئے حملوں کے سبب ہوئیں۔ طالبان نے پولیس، عام شہریوں اور حکومتی دفاتر کو نشانہ بنایا۔ داعش خراسان کی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا۔ افغانستان کا جی ٹی آئی اسکور 9.60 رہا۔