ہندستان ہندوستان

آرٹیکل 29 کے تحت تمام مذاھب کے بچوں کے لئے تعلیمی حقوق حاصل ہیں: رجنی کانت

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 02-Dec-2019

ہوڑہ (محمد نعیم) بچوں پر جسمانی و نفسیاتی تشدد سے تحفظات نیز ان کے حقوق اور فلاح و بہبود پر کام کرنے والا حکومت ہند کی طرف سے قائم شدہ فعال ادارہ نیشنل کمیشن فار چائیلڈ پروٹیکشن کی جانب سے ہوڑہ میں واقع ربیکا بلیلیس انگلش انسٹی ٹیوشن میں مدارس کے ذمہ داران حضرات کو لے کر ایک ورکشاپ کا انعقاد مولانا محمد محی الدین مصباحی ( نائب ناظم اعلیٰ مدرسہ دارالعلوم ضیاالسلام) کے زیرِ صدارت عمل میں آیا جس میں دہلی سے آئے ادارہ ہذا کے کوآرڈینیٹر رجنی کانت نے مدارس کے بچوں کے معاملات و مسائل اور ان کی بہبودی کو لے کر تفصیلی معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں آرٹیکل 29 کے تحت سماج کے سبھی بچوں کے لئے تعلیمی حقوق حاصل ہیں خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں۔ مزید انہوں نے کہا کہ بچوں کی صحیح طور پر رہنمائی فراہم کرنے کے لئے معاشرے کا بیدار ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کے ضرورت مند بچوں کے لئے حکومت ہند کی جانب سے ساڑھے چار سو روپے ماہانہ فی بچہ مقرر کیا گیا ہے بشرطیکہ انہوں نے مدرسے کا رجسٹریشن لازمی قرار دیا۔ دیگر مقررین میں ٹکیہ پاڑہ کے فعال سماجی خدمت گار مامون اختر، قومی اقلیتی حقوق کے رہنما اقبال انصاری اور بنگال مومن انصار سبھا کے ریاستی صدر عبدالقیوم انصاری نے مدارس کے بچوں کی خیر سگالی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا جبکہ ریاست کے مختلف علاقوں سے آئے معززین میں عبداللہ اعظمی، محمد آزاد انصاری، فاروق ملک اور جاوید رضا شامل تھے۔

About the author

Taasir Newspaper