سیاست سیاست

تلنگانہ عصمت ریزی واقعہ افسوسناک،لاء ان آرڈر پر سوالیہ نشان:محمد جہانگیر

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 02-Dec-2019

نئی دہلی(پریس ریلیز) تلنگانہ کے حیدر آباد میں 27 سالہ ڈاکٹر کے ساتھ زیادتی کے بعد جل جانے والی لاش کی خبر نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ کیا عام ہے اور کیا خاص ہے ہر شخص اس واقعے سے ناراض ہے حیدرآباد پولیس نے اس معاملے میں چار افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ملزم سے سزائے موت کا مطالبہ کیا جارہا ہے ملک بھر میں عصمت ریزی کے واقعات کے خلاف آواز اٹھائی جار ہی ہے اور عصمت دری کرنے والوں کو سخت ترین سزا دینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے عصمت ریزی کے واقعات کی سخت الفاظ مذمت کرتے ہوئے سماجی کارکن محمد جہانگیر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں ہر روز کہیں نہ کہیں عصمت ریزی کا واقعہ پیش آتا ہے ملک میں لاء ان آرڈر اتنا خراب ہے کہ عصمت دری کرنے والے آسانی سے کسی بھی عورت کو اپنا شکار بنالیتے ہیں۔ اگر عصمت دری جیسے گھناؤنے جرم کو روکنا ہے تو بہت سخت قانون بنانا ہوگا اور قانون کی بھی پیروی کرنا ہوگی۔محمد جہانگیر نے کہا کہ حیدرآباد کی خاتون ڈاکٹر کے ساتھ جس طرح زیادتی کی گئی وہ انتہائی شرمناک ہے۔ عصمت دری کر نے والوں کو سخت ترین سزا ملنی چاہئے۔ جب تک کہ عصمت دری کرنے والوں کے ساتھ بھر پور کارروائی نہیں کی جائے گی، تب تک ان کی روحیں بلند ہوتی رہیں گی۔محمد جہانگیر نے مزید کہا کہ ہر ریاستی حکومت کہتی ہے کہ ہم ریاست کو عصمت دری سے پاک ریاست بنائیں گے لیکن میرے خیال میں یہ ساری چیز یں جعلی ہیں۔ عصمت دری کرنے والے ہمارے ملک کے کینسر ہیں اور بہتر ہے کہ اس کاخاتمہ کریںحکومت کو خواتین کی حفاظت کے لئے بہتر انتظامات کرنے چاہیے کیونکہ اگر ہمارے ملک کی خواتین محفوظ نہیں ہیں تو ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے۔

About the author

Taasir Newspaper