ہندستان ہندوستان

دہلی میں 3 مسلم لڑکوں کی مشتبہ حالات میں موت، اہل خانہ کو پولس پر شبہ

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 02-Dec-2019

نئی دہلی،(ایجنسی): وسطی دہلی ضلع کے تحت نیتاجی سبھاش مارگ کے قریب دہلی گیٹ چوراہے پر ہفتہ کی رات تین نو عمر مسلم لڑکوں کی لاشیں برآمد ہونے کے بعد سنسنی پھیلی ہوئی ہے۔ تینوں کے نام سعد، حمزہ اور اسامہ ہیں، وہ آپس میں رشتے دار تھے اور ایک شادی تقریب سے اسکوٹی پر سوار ہو کر لوٹ رہے تھے۔علاقائی پولس کا دعویٰ ہے کہ یہ سڑک حادثہ ہے۔ جبکہ متاثرہ خاندانوں نے پولس پر ہی شک ظاہر کیا ہے۔ کنبہ کے افراد کا کہنا ہے کہ تینوں کی موت اس وقت ہوئی جب وہ شادی کی تقریب سے واپس آرہے تھے۔ اسی دوران ان کی اسکوٹی کا دہلی پولس کی ایک گشتی گاڑی نے تعاقب کرنا شروع کر دیا۔ ہلاک ہونے والے تینوں لڑکوں کی عمریں 16 سے 18 سال کے درمیان تھیں۔اے آئی این ایس کی رپورٹ کے مطابق، سعد کے والد نے واضح طور پر کہا کہ یہ حادثہ نہیں ہے بلکہ قتل ہے اور اس قتل کے لئے وسطی دہلی ضلع کی پولس ذمہ دار ہے، جس کی گشتی پارٹی لڑکوں کی اسکوٹی کا تعاقب کر رہی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر پولس لڑکوں کا تعاقب نہیں کر رہی ہوتی تو ان کے بچے آج صحیح سلامت ہوتے۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ رکشہ والوں نے ان کے بچوں کو اسپتال پہنچایا۔ادھر، رات میں پیش ہونے واقعہ کی معلومات گھنٹوں تک میڈیا کو نہیں دینے والے سینٹرل دہلی کے ڈی سی پی اور دہلی پولس کے ترجمان مندیپ سنگھ رندھاوا نے اتوار کے روز صبح ساڑھے گیارہ بجے واٹس ایپ گروپ پر پیغام بھیج کر بتایا کہ وہ دن کے ڈیڑھ بجے اس واقع کی معلومات میڈیا کو دیں گے۔سعد کے والد نے الزام لگایا، ’’اگر سینٹرل ڈسٹرکٹ پولس ایماندار ہے تو وہ اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کیوں چھپا رہی ہے؟ سی سی ٹی وی فوٹیج میں میں نظر آ جائے گا کہ پولس والے اسکوٹی کا تعاقب کر رہے تھے یا نہیں!‘‘جائے وقوع پر موجود عینی شاہدین اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، ’’واقعہ کے بعد ڈی سی پی مندیپ سنگھ رندھاوا مع فورس موقع پر پہنچ گئے تھے۔‘‘ ایسے حالات میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب خود ڈی سی پی موقع پر تھے تو اتنے بڑے حادثے کی سی سی ٹی وی فوٹیج پولس آخر کس سازش کے تحت عام کرنے سے ڈر رہی ہے!‘‘دوسرا سوال یہ ہے کہ رات کے وقت پیش آنے والے اس واقعہ کے بارے میں جائز معلومات دہلی پولس کے ترجمان اور وسطی ضلع کے ڈی سی پی مندیپ سنگھ رندھاوا نے میڈیا سے کیوں پوشیدہ رکھی؟ اگر تینوں لڑکوں کی ہلاکت میں پولس کا کردار مشکوک نہیں ہے تو پولس نے اتنا سرد رویہ کیوں اختیار کیا۔

About the author

Taasir Newspaper