سیاست سیاست

سرعام پھانسی دو تبھی رکے گی عصمت دری:بدرالدین اجمل

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 03-Dec-2019

نئی دہلی/ ممبئی(یو این آئی) آل انڈیا ٰیونائیٹیڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ کے قومی صدر و رکن پارلیمنٹ مولانا بدر الدین اجمل نے حیدرآبا د کی ڈاکٹر پرینکا ریڈی کی آبروریزی اور قتل کے دلخراش اور شرمناک واقعہ پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تمام مجرمین کو لاکھوں لوگوں کے سامنے بالکل سرِ عام پھانسی د ینے کی ضرورت ہے تاکہ دوسرے لوگ اس طرح کے جرم کا ارتکاب کرنے سے پہلے اس کی سزا کا سونچ کر کانپ جائیں۔آج یہاں جاری ریلیز میں انہوں نے کہا کہ 2012 میں دہلی میں نربھیا کے ساتھ ہونے والے دردناک واقعہ کے بعد پورے ملک میں اس کے خلاف غصہ دیکھنے کو ملا تھا، اس کے بعد 2013 میں ایک نر بھیا ایکٹ پارلیمنٹ سے پاس ہوا جس کے تحت ریپ کے مجرمین کو پھانسی دینے کی سزا موجود ہے مگر سونچنے کی بات یہ ہے کہ اس قانون کے بننے کے بعد بھی ہر دن عورتوں کی آبروروزی ہو رہی ہے اور پہلے سے بھی زیادہ ہو رہی ہے مگر اب تک اس قانون کے تحت کسی کو پھانسی نہیں ہوئی ہے یہاں تک کہ نر بھیا کے مجرمین کو بھی اب تک پھانسی نہیں ہو پائی ہے۔اس لئے سرکار کو چاہئے کہ ٹال مٹول کے بجائے فوری طور پرریپ کے مقدمات کے لئے علیحدہ فاسٹ ٹریک کورٹ پورے ملک میں قائم کرے اور مجرمین کو تین مہینہ کے اندر لاکھوں لوگوں کو جمع کرکے سب کے سامنے پھانسی دی جائے۔مولانا نے کہا کہ صرف قانون بنانے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا جب تک کہ اس کا صحیح سے نفاذ نہ ہو۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ریپ کے مجرمین کو سرِ عام پھانسی دینے کی شروعات ہو گی اور اس سزا کی تشہیر ہوگی تو ریپ کے واقعات میں کمی آئے گی۔

About the author

Taasir Newspaper