ہندستان ہندوستان

شعبۂ جغرافیہ کے زیر اہتمام اصولِ تحقیق پر اکیس روزہ ورکشاپ کا کامیابی کے ساتھ اختتام

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 02-Dec-2019

علی گڑھ،(پریس ریلیز)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کے شعبۂ جغرافیہ کے زیر اہتمام تحقیق کے طریقوں اور اصولوں پر مبنی 21روزہ قومی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ مکمل ہوئی۔ ورکشاپ کے اختتامی اجلاس میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یوجی سی) کے ایڈیشنل سکریٹری ڈاکٹر شکیل احمد نے بطور مہمان خصوصی شرکت کرتے ہوئے کہاکہ اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں تحقیق و تدریس کے معیار سے ہی ان اداروں کا اعتبار قائم ہوتا ہے اس لئے تحقیق و تدریس سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے۔ انھوں نے ورکشاپ کے شرکاء اور اساتذہ سے کہاکہ وہ اپنی ریسرچ تجاویز مختلف فنڈنگ ایجنسیو ں کی ریسرچ اسکیموں کے تحت جمع کریں اور حکومتی اسکیموں کا فائدہ اٹھائیں۔ ڈاکٹر شکیل احمد نے اپنے طویل تحقیقی و انتظامی تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اس طرح کی ورکشاپ نئے ریسرچ اسکالروں اور نوجوان طلبہ و طالبات کیلئے بہت مفید و کارآمد ہے۔ اجلاس کے مہمان اعزازی پروفیسر ایس پی سنگھ (شعبۂ انسانی علوم، روڑکی یونیورسٹی ) نے شعبۂ جغرافیہ کے معیار کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ محققین کو تحقیق کی نئی تکنیکوں اور طریقوں کا تازہ علم حاصل کرتے رہنا چاہئے ۔ قابل ذکر ہے کہ مذکورہ اکیس روزہ ورکشاپ کو اے ایم یو کے ایچ آرڈی سنٹر نے اسپانسر کیا تھا جب کہ اس کا نظم و نسق ایچ آرڈی سنٹر کے ڈائرکٹر پروفیسر اے آر قدوائی کی رہنمائی میں پروفیسر نظام الدین خاں نے سنبھالا۔ اختتامی اجلاس میں مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے صدر شعبہ پروفیسر عتیق احمد نے کہاکہ نوجوان اسکالروں کی تحقیقی صلاحیتوں کی نشو و نما کے پہلو سے یہ ورکشاپ بہت اہم ثابت ہوئی۔ پروفیسر اے آر قدوائی نے خطاب کرتے ہوئے ورکشاپ کے کوآرڈنیٹر پروفیسر نظام الدین خاں اور صدر شعبہ پروفیسر عتیق احمد کی کاوشوں کی ستائش کی۔ انھوں نے شرکاء سے کہاکہ وہ معیاری ریسرچ کو اپنا نصب العین بنائیں اور کوشش کریں کہ ان کی تحقیق معیاری مجلات میں شائع ہو۔ فیکلٹی آف سائنس کے ڈین پروفیسر قاضی مظہر علی نے کوالیٹیٹیو اور کوانٹیٹیٹیو ریسرچ کے طریقوں کے امتزاج پر زور دیتے ہوئے کہاکہ اسکالروں کو ریسرچ کے نئے سافٹ ویئر کا بھی علم ہونا چاہئے۔ کوآرڈنیٹر پروفیسر نظام الدین خاں نے ورکشاپ کی اجمالی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اکیس دن کے ورکشاپ میں 63سیشن ہوئے۔ مختلف موضوعات کے 26؍ریسورس پرسنوں نے شرکاء کی رہنمائی کی۔ اس میں 9؍ریسورس پرسن جغرافیہ سے، تین تین ریسور س پرسن شماریات اور سیاسیات سے، دو دو ریسورس پرسن اقتصادیات اور زرعی اقتصادیات سے اور ایک ایک ریسورس پرسن نباتیات، نفسیات، ارضیات، لائبریری و انفارمیشن سائنس، سول انجینئر نگ اور یونانی طب سے تھے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ورکشاپ میں جغرافیہ کے علاوہ قانون، سیاسیات، عمرانیات، تاریخ، سنسکرت، ارضیات، زراعت، نباتیات، تعلیم اور مغربی ایشیا مطالعات کے طلبہ و طالبات شریک ہوئے۔

About the author

Taasir Newspaper