ہندستان ہندوستان

عصمت دری کے واقعات کے خلاف جنتر منتر پر احتجاجی مظاہرہ

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 02-Dec-2019

نئی دہلی،( یواین آئی) تلنگانہ کے حیدرآباد میں ایک خاتون ویٹنری ڈاکٹر کی اجتماعی عصمت دری کے بعد اس کا قتل ، رانچی اور وڈودرا میں پیش آئے عصمت دری کے واقعات کے خلاف احتجاج کرنے اور انصاف کے مطالبہ کے لئے معاشرے کے مختلف طبقوں کے لوگ پیر کو یہاں جنتر منتر پر جمع ہوئے۔آل انڈیا ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن، آل انڈیا اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن، آل انڈیا ڈیموکریٹک ومنس ایسوسی ایشن اور آل انڈیا پروگریسو ومنس ایسوسی ایشن جیسی کئی تنظیموں کی مشترکہ قیادت میں منعقد احتجاجی مظاہرے کی آرگنائزر اور کانگریس لیڈر امرتا دھون نے کہا ’’میں ایک لیڈر کے طور پر نہیں بلکہ معاشرے کے ایک ایسے رکن کے طور پر اس احتجاجی مظاہرے کی قیادت کر رہی ہوں، جو معاشرے میں رونما ہو رہے واقعات کو لے کر فکر مند ہے ۔ خواتین کتنی غیر محفوظ ہیں، اس پر بحث کرنے کے لئے ہمیں دوسری نربھیا کیوں چاہئے؟ عدالتی نظام کو فوری طور پر انصاف یقینی بنانا ہوگا تاکہ متاثرین کنبے کو کچھ راحت ملے‘‘۔ انہوں نے کہا’’نربھیا عصمت دری کے قصوروار اب بھی جیل میں ہے اور انہیں اب تک پھانسی نہیں دی گئی ہے ۔ وہ جیل میں اپنی زندگی جی رہے ہیں، انہیں کھانا مل رہا ہے اور وہ چین سے سو رہے ہیں لیکن متاثرین کنبے کو کیا ملا، جن کی زندگی ہمیشہ کے لئے تباہ ہو گئی ہے ‘‘۔ مظاہرے کے دوران کالی پٹیاں باندھے مظاہرین نے ’ہمیں انصاف چاہیے‘، ’ہمیں شرم آتی ہے کہ قاتل اب تک زندہ ہیں‘ کے نعرے لگائے ۔ واضح ر ہے کہ سرکاری اسپتال میں کام کرنے والی ویٹنری ڈاکٹر کا جمعرات کی شب حیدرآباد کے نواحی علاقے میں چار لوگوں نے عصمت دری کی اور اس کے بعد اسے زندہ جلا دیا جس سے اس کی موت ہو گئی ۔ اس کی جھلسی ہوئی لاش جمعہ کو برآمد ہوئی تھی ۔ اس معاملے کے چار ملزمان کو اسی دن گرفتار کر لیا گیا تھا۔

About the author

Taasir Newspaper