محمد علوی نے شعر کی تازگی اور تنوع کو انوکھا اسلوب دیا: پروفیسر صاحب علی

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 25-Dec-2019

ممبئی،(پریس ریلیز)ممبئی یونیورسٹی کے کالینا کیمپس میں ممتاز جدید اردو شاعر محمد علوی کی شخصیت اور ادبی خدمات پر ایک خصوصی لیکچر کا اہتمام ساہتیہ اکیڈمی ک، نئی دہلی کی جانب سے کیا گیا۔ اس پروگرام میں شعبۂ اردو ممبئی یونیورسٹی کے پروفیسر صاحب علی نے محمد علوی کی شخصیت اور ادبی خدمات پرمعلوماتی لیکچر پیش کیا۔ انھوں نے اس لیکچر میں محمد علوی کے سوانحی کوائف اختصار سے بیان کرتے ہوئے ان کے شعری سفر کے ان اہم مراحل کی نشاندہی کی جن کی بنیاد پر انھیں جدید اردو شاعروں کے درمیان ایک منفرد اور ممتاز حیثیت حاصل ہوئی ۔ پروفیسر صاحب علی نے کہا کہ محمد علوی نے اپنی شاعری میں جن موضوعات کو برتا ہے ان میں عصری حسیت کا تاثر پوری شدت کے ساتھ نمایاں نظر آتا ہے اور اس تاثر کے اظہار کیلئے وہ ایسی زبان استعمال کرتے ہیں جو عام فہم اور انسانوں کے روزمرہ میں شامل ہے۔ انھوں نے محمد علوی کی انفرادیت پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جس زمانے میں محمد علوی نے اردو کے شعری منظرنامہ پر اپنی پر اثر موجودگی درج کرائی اس زمانے میں خلیل الرحمان اعظمی، شہریار، باقر مہدی، بمل کمار اشک ،شاذ تمکنت اور اس قبیل کے دوسرے باکمال شعرا ارباب ادب کے درمیان مقبولیت حاصل کر رہے تھے لیکن محمد علوی نے ان سب سے علاحدہ شناخت قایم کی اور ان کی یہ شناخت آج بھی باقی ہے۔اس خصوصی لیکچر کی صدارت پروفیسر یونس اگاسکر نے کی ۔ انھوں نے کہا کہ پروفیسر صاحب علی نے اختصار میں جامعیت کا قابل قدر نمونہ پیش کرتے ہوئے محمد علوی کی شخصیت اور ادبی خدمات پر بھرپور روشنی ڈالی جس سے ان کی شاعری کے اہم نکات پوری طرح واضح ہو گئے۔ پروفیسر یونس اگاسکر نے کہا کہ محمد علوی کی شاعری میں وہ تمام فنی خوبیاں پائی جاتی ہیں جو کسی بھی تخلیق کو ادبی وقار اور مرتبہ عطا کرتی ہیں ۔ انھوں نے ساہتیہ اکیڈمی اور اس کے علاقائی دفتر کے تمام اراکین کو ایسے معلوماتی پروگرام منعقد کرنے پر مبارک باد پیش کی اور یہ امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ شعبۂ اردو ممبئی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر قمر صدیقی نے پروگرام کے آغاز میں اس کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ساہتیہ اکیڈمی زبان و ادب کی خدمت کرنے والا ایک موقر اور مقتدر ادارہ ہے جو تمام ہندوستانی زبانوں اور ان کے ادب کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ محمد علوی کی شخصیت اور ادبی خدمات پر اسی خصوصی لیکچر کا اہتمام اکیڈمی کے اس پروگرام کا حصہ ہے جس میںمختلف زبانوں کی ممتاز شخصیات کی خدمات کی پذیرائی کی جاتی ہے۔اس خصوصی لیکچر میں شعبہ ٔ اردو کے اساتذہ ڈاکٹر معزہ قاضی، ڈاکٹر عبداللہ امتیاز، ڈاکٹر جمال رضوی، ڈاکٹر سرکھوت مزمل اور مختلف کورسس کے طلبا کے علاوہ شعبہ ٔ فارسی کی صدر ڈاکٹر سکینہ خان اور شہر کی ممتاز ادبی شخصیات عارف اعظمی،حنیف قمر،عبداللہ مسرور، پروفیسر بلدیو متلانی، چندر ٹھاکر، عمران امین، شاداب رشید وغیرہ نے شرکت کی اور پروگرام کو کامیاب بنایا۔