چلہنیا باشندگان نے ریتوا ندی پر پل بنانے کا کیا مطالبہ

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 20-Dec-2019

کشن گنج :(افتاب عالم صدیقی)ٹیڑھا گاچھ بلاک کے شمالی حلقہ میں واقع چلہنیا پنچایت کے باشندگان ہر ایک سال سیلاب اور کٹائو سے متاثر رہتے ہیں ۔ پنچایت کے بیچو بیچ بہنے والی ریتوا ندی کے کٹائو سے سیکڑوں خاندان اجڑکر دوسری جگہ زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ پنچایت کے زیادہ تر گائوں پکی سڑک سہولت سے محروم ہیں ۔ پنچایت بھون جانے کے لئے کچی سڑک برسات میں کیچڑ سے برا حال ہوجاتا ہے ۔ حالانکہ اب پنچایت میں مینی سکریٹریٹ کا تعمیر ہورہا ہے جس سے پنچایت باشندگان کو کافی ترقی کی امید لگی ہوئی ہے ۔ دیوری یادو ٹولہ سے چین پور منڈل ٹولہ ، چلہنیا سمیت کئی گائوں کے لوگوں کو ہاٹ بازار وبلاک صدر دفتر جانے کےلئے ریتوا ندی پار کرنے کی مجبوری ہوتی ہے ۔ دوسرا راستہ ہے بھی تو 5کیلو میٹر کچی سڑک پر پیدل چل کر پہنچ سکتے ہیں ۔ گرلس ہائی اسکول چین پور جانے کےلئے طالبات کو پیدل و کشتی سے ندی پار کرنا مجبوری ہے ۔ قبل میں چلہنیا ، ببھن گاما اور سوہیا گھاٹ کو کٹائو سے بچانے کےلئے کئی انتظامات کئے گئے لیکن وہ سب بے کار ثابت ہوا ۔ ریتوا ندی کے لپیٹے میں سوہیا گھاٹ لگ بھگ 80فیصدکٹ چکا ہے ۔ کئی غریب خاندان کے آشیانے ندی میں سماں چکے ہیں ۔ پنچایت کے ببھن گاما ، چلہنیا ، سوہیا ، کوٹھی ٹولہ ، چین پور ، دیوری وغیرہ گائوں آج بھی کٹائو کے لپیٹے میں ہیں ۔ برسات کے موسم میں ندی کی آبی سطح میں اضافہ ہونے سے سیکڑوں ایکڑ زر خیز زمین سمیت درجنوں خاندان کے گھر پانی میں ڈوب جاتے ہیں ۔ پنچایت کے 70فیصدآبادی کھیت پر منحصر ہیں ۔ سڑک سہولت سے محروم پنچایت باشندگان صاف پانی اور سرکار ی ہیلتھ کیمپ سے بھی محروم ہیں ۔