ہندستان ہندوستان

ڈاکٹر اصغر اعجاز قائمی اور ڈاکٹر کیفیؔ سنبھلی کو اعزاز سے نوازا گیا

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 05-Dec-2019

علی گڑھ( پر یس ریلیز)بزمِ نویدِ سخن علی گڑھ رجسٹرڈکے زیرِ اہتمام اور ڈاکٹر الیاس نویدؔ گنوری کی سرپرستی میں امام بارگاہ حسینیہ زہرا کیلا نگر سول لائنس علی گڑھ میں ایک آل انڈیا طرحی محفل مسالمہ کے انعقاد کے دوران مولانا ڈاکٹر اصغر اعجاز قائمی جلالپوری اور ڈاکٹر کیفیؔ سنبھلی کو ان کی علمی و ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اوارڈ اور خطابات سے نوازا گیا۔ پروگرام کی صدارت پروفیسر شاہ محمد وسیم سابق ڈین فیکلٹی آف کامرس اے ایم یو علی گڑھ نے کی مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے استاذالشعراء ڈاکٹر کیفیؔ سنبھلی نے شرکت کی جبکہ مہمانانِ ذی وقار کی حیثیت سے معروف صحافی عالم نقوی اور انگریزی زبان و ادب کے شاعر و نقاد ڈاکٹر شجاعت حسین نے شامل ہوئے۔پروگرام کی نظامت کے فرائض مولانا ڈاکٹر اصغرؔ اعجاز قائمی جلالپوری اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ دینیات اے ایم یو علی گڑھ نے بحسن و خوبی انجام دئیے۔پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے مولانانوید عباس نے کیا اور نعتِ سرورِ کونین عظیم شمس آبادی نے پیش کی۔اس موقع پر مولانا ڈاکٹر اصغرؔ اعجاز قائمی جلالپوری کو بزمِ نویدِ سخن علی گڑھ کی جانب سے میر انیس اوارڈ اور آفتاب سخن کے خطاب سے نوازا گیا جب کہ مہمان خصوصی ڈاکٹر کیفیؔ سنبھلی کو مرزا دبیر اوارڈ اور ماہتاب سخن کا خطاب پیش کیا گیا۔اس سلسلے سے گفتگو کرتے ہوئے پروگرام کے کنوینر سید بصیر الحسن وفاؔ نقوی نے کہا کہ بزمِ نویدِ سخن علی گڑھ کی ایک ایسی فعال علمی و ادبی انجمن ہے جس کے زیرِ اہتما م اکثر ادبی محافل،شعری نشست،مذاکرے، مشاعر ے اور مسالمے وغیرہ کا اہتمام ہوتا رہتا ہے اس انجمن کے سرپرست ڈاکٹر الیاس نویدؔ گنوری کی کاوشوں اور رہنمائی کا ہی نتیجہ ہے کہ اس بزم نے اردو ادب کی نہ صرف خدمت انجام دی ہے بلکہ اردو ادب سے تعلق رکھنے والے شعراء اور علماء کی بھی پزیرائی کی ہے جس کے ثبوت میں آج کے اس پروگرام کو دیکھا جاسکتا ہے۔ہمیں اس موقع پر مولانا ڈاکٹر اصغرؔ اعجازقائمی جلا لپوری کو اعزاز دیتے ہوئے نہایت خوشی ہو رہی ہے کیونکہ آپ کی علمی و ادبی شخصیت دنیائے ادب میں محتا جِ تعارف نہیں آپ عربی فارسی اور اردو زبان پر نہ صر ف عبور رکھتے ہیں بلکہ مذکورہ زبانوں میں معیاری شاعری بھی فرماتے ہیں آپ ایک بہترین نثر نگار، تبصرہ نگار،ناظم اور شاعر اہل بیت بھی ہیں ۔اسی طرح ڈاکٹر کیفیؔ سنبھلی بھی ادب میں ہمہ وقت غرق نظر آتے ہیں وہ اردو ادب کی مختلف اصناف میں طبع آزمائی کر تے ہیں جس میں افسانے اور تنقید کے ساتھ ساتھ شعر ی اصناف بھی ہیں خصوصا غزل، منقبت اور جدید مرثیہ کے حوالے سے آپ کی خدمات کا اعتراف کرنا ہر ادب پر لازم ہے ۔ان تمام امور کو دیکھتے ہوئے بزم نوید سخن کے اراکین نے فیصلہ کیا کہ ان حضرات کی خدمت میں سپاس نامہ پیش کرتے ہوئے اعزاز دیا جائے جس کے یہ دونوں افراد مستحق ہیں۔اس موقع پر استاذالشعراء ڈاکٹر الیاس نویدؔ گنوری نے کہا کہ امام حسینؑ کی شخصیت کیلئے ہم شہیدِ اعظم کا لفظ استعمال کر تے ہیں اور شہید کبھی مرتا نہیں اس لئے شعراء کیلئے لاز م ہے کہ وہ امام حسینؑ کیلئے کبھی مرنے کا لفظ استعمال نہ کریں بلکہ اپنی شاعر ی میں انھیں شہید اعظم ہی کہہ کر پکاریں۔ساتھ ہی اس بات کا خیال بھی رکھیں کہ سلام کے فن کے کیا تقاضے ہیں اور ادبی شاعری کے کیا طریقہ کار ہیں ۔ اس سلسلے سے اگر ہم مولانا ڈاکٹر اصغر اعجاز قائمی اور ڈاکٹر کیفیؔ سنبھلی کو دیکھتے ہیں تو یہ دونوں شخصیتیں اپنی مثال آپ نظر آتی ہیں ان حضرات نے اردو ادب کی جس طرح موجودہ دور میں مصروف رہنے کے باوجود خدمت انجام دی ہے وہ قابلِ ستائش ہے ۔پروفیسر شاہ محمد وسیم نے کہا کہ ہمیں حضرت امام حسین ؑ کی شخصیت ا ور ان کے خانوادے سے سبق لینا چاہئے کہ جنھوں نے اسلام کے تحفظ کیلئے قربانیاں پیش کیں۔ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ امام علیؑ نے کس طرح لوگوں کے دلوں پر حکومت کی اور کس طرح اپنے دور خلافت میں عوام کے ساتھ انصاف کیا ہے اگر ہم حضرت علی ؑ کے راستے پر چلتے ہیں تبھی ہم خود کو حقیقی حسینی کہہ سکتے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ بزمِ نوید سخن مبارک باد کی مستحق ہے کہ اس آل انڈیا طرحی مسالمے میں عصرِ حاضر کے دو ممتاز قلمکاروں کو اعزاز سے نواز رہی ہے کیونکہ علمی و ادبی کام کرنا بھی سیرت علی ؑ کا ایک حصہ ہے اور اس کا اعتراف کرنا بھی صاحبان نقد و نظر پر لازم ہے۔پروگرام میں شامل ہو نے والوں میں ڈاکٹر ہلال نقوی،نسیم طیب،ذاکر رضا نقوی،حیدر رضا کاملؔ،جے آر روشنؔ ،اودھیش کمار ، ارشاد قریشی،منور عباس نقوی،ذوالفقار خان ذولفی ،میر کاظم حسین،میر عالم حسین وغیرہ پیش پیش رہے۔

About the author

Taasir Newspaper