ہندستان اورویسٹ انڈیزکے سامنے کرو یا مروکا چیلنج

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 11-Dec-2019

ممبئی،(یو این آئی ) فیلڈنگ اور بیٹنگ شعبے کی اپنی کمزوریوں سے سبق لیتے ہوئے ہندستانی کرکٹ ٹیم بدھ کو ویسٹ انڈیز کے خلاف ممبئی کے وانکھیڑے میدان پر تیسرے اور آخری ٹوئنٹی 20 میچ میں کرو یا مرو کی صورت حال میں اترے گی جہاں دونوں ٹیموں کے لیے سریز داؤ پر ہوگی۔ہندستان نے حیدرآباد میں پہلے ٹی -20 میچ میں چھ وکٹ سے جیت اپنے نام کر کے تین میچوں کی سیریز میں 1-0 کی برتری بنائی تھی لیکن دوسرے میچ میں ویسٹ انڈیز نے میزبان ٹیم کی خراب فیلڈنگ اور نچلے آرڈر کی خراب بلے بازی جیسی کوتاہیوں کا بخوبی فائدہ اٹھاتے ہوئے تھرو اننت پورم میں یہ میچ آٹھ وکٹ سے جیت کر سریز 1-1 سے برابر کر دی۔وراٹ کوہلی کی کپتانی والی ٹیم انڈیا کے لیے ابھی سریز جیتنے کیلئے ونڈيز کو ممبئی میں بدھ کو ہونے والے فیصلہ کن میچ میں ہر حال میں شکست سے دو چار کرنا ہوگا جبکہ دو بار ٹوئنٹی 20 عالمی چمپئن ویسٹ انڈیز ہر حال میں اس میچ کو جیت کر خود اس فارمیٹ کی سب سے بہترین ٹیم ہونے کو ثابت کرنا چاہے گی۔ ہندستان جیسی مضبوط ٹیم کو اسی کے گھر میں ہرانا بھی اس کے لیے آسٹریلیا میں ہونے والے اگلے عالمی کپ سے پہلے حوصلہ بڑھانے والا ہوگا۔ہندستانی ٹیم کی دوسرے ٹی -20 میچ میں کارکردگی سوالوں کے گھیرے میں رہی تھی اور خود کپتان وراٹ نے ٹیم کی فیلڈنگ خراب بتاتے ہوئے کہا تھا کہ مسلسل دو میچوں میں ان کے کھلاڑیوں نے جس طرح سے کیچ ڈراپ کئے ہیں وہ دیکھنا کافی مایوس کن ہے۔ ہندستان نے ایک ہی اوور میں دو کیچ ڈراپ کئے تھے جس نے میچ کا رخ بدل دیا۔ وہیں نچلے آرڈر کے بلے بازوں کی کارکردگی بھی غیر اطمینان بخش رہی تھی۔اوپننگ جوڑی روہت شرما اور لوکیش راہل اس میچ میں 24 رنز ہی جوڑ سکے جبکہ چوتھے نمبر پر بلے بازی کے لیے اترے وراٹ نے بھی 19 رن بنائے۔ ٹیم کے یہ تینوں بڑے کھلاڑی گزشتہ میچ میں سستے میں آؤٹ ہوئے لیکن نچلے آرڈر کے بلے بازوں میں رویندر جڈیجہ اور واشنگٹن سندر دہائی کے ہندسے کو بھی چھو نہیں سکے۔اگرچہ وراٹ کا نوجوان شوم دوبے کو اپنے باقاعدہ تیسرے نمبر پر اتارنے کا فیصلہ اس میچ میں کام آیا جنہوں نے 54 رن کی بے مثال نصف سنچری اننگز سے ٹیم کو 170 کے لڑنے کے قابل اسکور تک پہنچایا۔ وہیں وکٹ کیپر رشبھ پنت نے بھی 33 رنز کی اننگز کھیلی اور ناٹ آؤٹ کریز سے واپس آئے۔ لیکن ایک بار پھر صاف ہو گیا کہ ہندستان اپنے کچھ ایک بلے بازوں پر رن ​​رفتار کے لئے انحصار کرتا ہے۔ خود وراٹ نے بھی نچلے آرڈر پر مضبوط بلے بازی کو اہم بتایا۔ہندستان اگر اس فارمیٹ کی ماہر مانی جانے والی ویسٹ انڈیز سے سریز جیتنا چاہتا ہے تو اس کے لیے ممبئی میں اپنی پچھلی غلطیوں سے سبق لینا ہوگا۔ ٹیم كو اپنے نوجوان کھلاڑیوں سے بہتر کھیل کی توقع ہے اور اگلے فیصلہ کن مقابلے میں ایک بار پھر نوجوان آف اسپنر سندر ، تنقید میں گھرے رہنے والے وکٹ کیپر پنت پر نگاہیں ہوں گی۔سندر نے تھرو اننت پورم میں 26 رن پر ایک وکٹ نکالا تھا اور دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ٹیم مینجمنٹ وانکھیڑے میدان پر سندر کو دوبارہ موقع دے گا یا چائنامین بولر کلدیپ یادو کو اتارے گا۔ سندر نے ٹیم کے لیے گزشتہ پانچ میچوں میں صرف تین وکٹ نکالے ہیں جبکہ کافی مہنگے بھی ثابت ہوئے ہیں۔ وہیں جنوبی افریقہ کے خلاف دو ٹی -20 میچوں میں وہ کوئی وکٹ نہیں نکال سکے تھے۔اس کے علاوہ سندر کی فیلڈنگ بھی ٹیم کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ سندر نے گزشتہ میچ میں لینڈل سیمنس کا کیچ چھوڑا تھا جنہوں نے ناٹ آؤٹ 67 رن کی اپنی اننگز سے ویسٹ انڈیز کو آسان جیت دلا دی تھی۔ دوسری طرف کلدیپ ہمیشہ سے ٹیم کے سرکردہ بولر رہے ہیں، لیکن انہوں نے آخری بار فروری میں ہیملٹن میں نیوزی لینڈ کے خلاف ٹی -20 میچ کھیلا تھا۔وہیں بلے بازوں میں پنت کو خود کو ثابت کرنے کا دباؤ رہے گا۔ اگرچہ وراٹ نے ہمیشہ ان کی حمایت کی ہے، لیکن اپنے آخری سات ٹی -20 میچوں میں ان کا سب سے زیادہ اسکور ناٹ آؤٹ 33 رن ہی رہا ہے۔ انہوں نے آخری بار اگست میں ٹی -20 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ہی نصف سنچری بنائی تھی۔ ٹیم میں دیگر وکٹ کیپر سنجو سیمسن کو جگہ دیے جانے کے بعد پنت پر اپنی جگہ برقرار رکھنے کے لئے دباؤ اور بڑھ گیا ہے۔گزشتہ میچ میں ناکام رہے روہت بھی اپنے گھریلو میدان پر بڑی اننگز کھیلنے چاہتے ہیں وہیں شوم کی کوشش رہے گی کہ وہ بھی اپنے کھیل میں تسلسل برقرار رکھیں۔ بولنگ شعبہ میں دیپک چاہر اور بھونیشور کمار سے توقع رہے گی کہ وہ کفایتی بولنگ کریں۔دوسری طرف ویسٹ انڈیز کے ٹاپ آرڈر کے بلے باز شاندار فارم میں ہیں۔ لینڈل سیمنس ، ایون لیوس، نکولس پورن اور شمرون هتمائر دیگر بہترین اسکورر ہیں۔ اس کے علاوہ کپتان کیرون پولارڈ، برینڈن کنگ اور جیسن ہولڈر ٹیم کے دیگر اہم کھلاڑی ہیں۔ وہیں بولنگ شعبہ میں فاسٹ بولر شیلڈن كونٹریل، كیسرچ ولیمز، لیگ اسپنر ہیڈن والش مضبوط کھلاڑی ہیں۔