استاد کو تشدد کر کے ہلاک کرنے والے فوجیوں کو سزائے موت

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 01-Jan-2020

خرطوم،سوڈان میں اس سال کے اوائل میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ایک استاد کو اغواء کر کے ہلاک کرنے والے سکیورٹی اہلکاروں کو سزائے موت سنا دی گئی ہے۔افریقی ملک سوڈان میں ایک عدالت نے ملکی سکیورٹی اداروں کے ستائیس اہلکاروں کے لیے سزائے موت کا حکم دیا ہے۔ مجرمان کو یہ سزا اسی سال ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ایک استاد کو اغواء کرنے اور اسے تشدد کا نشانہ بن کر ہلاک کرنے پر سنائی گئی ہے۔ سزا یافتہ مجرمان میں ملکی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کے علاوہ اس جیل میں کام کرنے والے پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، جس میں مقتول استاد کی تشدد کے نتیجے میں ہلاکت واقع ہوئی تھی۔سوڈان میں اس استاد کی ہلاکت حکومت مخالف تحریک میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس واقعے کے بعد مظاہرین میں ایک نئی تحریک پیدا ہوئی کہ وہ سکیورٹی فورسز کی ‘ظالمانہ‘ کارروائیوں کے خلاف باہر نکلیں۔ قریب ایک برس قبل شروع ہونے والے مظاہروں میں دو سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ مظاہروں کے بعد عوام کا مطالبہ تھا کہ اس دوران ہونے والی اموات کی تحقیقات کے لیے آزاد ججز تعینات کیے جائیں۔ یہ مطالبہ اب جا کر پورا ہوا ہے۔ شدید عوامی احتجاج کے بعد بالآخر سوڈانی فوج نے عرصہ دراز سے اقتدار پر قابض سابق صدر عمر البشیر کی حکومت ختم کرائی۔ احتجاج کا یہ سلسلہ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے شروع ہوا تھا۔مقتول استاد کے بارے میں پہلے یہ کہا گیا تھا کہ وہ ایک بیماری کے نتیجے میں ہلاک ہوئے تاہم بعد ازاں ریاستی اداروں کی تفتیش سے اس بات کا تعین ہوا کہ مقتول کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ دارالحکومت خرطوم میں عدالتی فیصلہ سامنے آنے کے موقع پر سینکڑوں افراد نے ملکی پرچم لہرا کر اپنے اطمینان کا اظہار بھی کیا۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ سزائے موت کے فیصلے پر عملدرآمد کب ہو گا؟