دنیا بھر سے

افریقہ میں ٹڈی دل کا بڑا حملہ، روزانہ ڈھائی ہزار افراد کی خوراک ہڑپ

Written by Taasir Newspaper

Taasir Hindi News Network | Uploaded on 20-Jan-2020

نیروبی،مشرقی افریقہ میں گزشتہ 25 سال کے عرصے میں ٹڈی دل کا سب سے بڑا حملہ ہوا ہے جس سے اس خطے میں، جسے پہلے ہی خوراک کی قلت کا سامنا ہے، سنگین مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر ٹیڈی دل کے حملے کا سبب آب و ہوا میں ہونے والی خلاف معمول تبدیلیاں ہیں۔اطلاعات کے مطابق، شمالی افریقہ کے کئی علاقوں میں ٹڈی دل آسمان پر بادلوں کی طرح نمودار ہوتا ہے اور جہاں ہریالی دیکھتا ہے وہاں اتر کر اسے دیکھتے ہی دیکھتے چٹ کر جاتا ہے۔ ایک ٹڈی کی لمبائی اندازاً ایک انگلی کے برابر ہوتی ہے، مگر اس کا پیٹ بھرنے میں ہی نہیں آتا۔ وہ فصلیں اجاڑ کر رکھ دیتی ہیں۔تازہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کینیا کے علاقے میں ٹڈی دل کی تعداد میں انتہائی خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ ملک کے شمال مشرقی حصے میں جو ٹڈی دل دیکھے جا رہے ہیں ان کی لمبائی 60 کلو میٹر اور چوڑائی 40 کلومیٹر تک ہے۔ٹڈی دل کی نگرانی کرنے والے ایک بین الحکومتی ادارے نے بتایا ہے کہ ایک ٹڈی دل میں موجود ٹڈیوں کا اندازہ 15 کروڑ تک لگایا گیا ہے۔ ایک ٹڈی دل ایک دن میں 100 سے 150 کلومیٹر تک کے علاقے کو اپنا نشانہ بنا لیتا ہے۔ اس سے ایک دن میں اتنی خوراک ضائع ہو رہی ہے جو عموماً 2500 لوگوں کے کھانے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ان صحرائی ٹڈی دل کو ماہرین خطرناک ترین قسم قرار دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ان سے صومالیہ، ایتھوپیا، سوڈان، جبوتی اور اری ٹیریا کے کئی علاقے نشانہ بن رہے ہیں، اور ان کا اگلا ہدف جنوبی سوڈان اور یوگنڈا بن سکتے ہیں۔ٹدی دل کے حملوں سے خطے میں خوراک کی صورت حال تشویش ناک صورت اختیار کر رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے خوراک کے ادارے نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔ وہاں پہلے ہی لاکھوں افراد کو خشک سالی اور بعض علاقوں میں شدید بارشوں کے بعد سیلابوں سے ہونے والی تباہی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ صومالیہ، ایتھوپیا اور جنوبی سوڈان کے کئی حصوں میں انتہاپسندوں کے حملوں اور خانہ جنگی کے باعث پہلے ہی خوراک کی شدید قلت ہے۔اس سے قبل شمالی افریقہ کے 20 ملکوں میں ٹڈی دل کے بڑے حملے 2003 اور 2005 میں دیکھنے میں آئے تھے، جن پر قابو پانے میں 50 کروڑ ڈالر سے زیادہ اخراجات آئے تھے اور ان حملوں سے ڈھائی ارب ڈالر سے زیادہ کی فصلوں کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔

About the author

Taasir Newspaper