سیاست سیاست

اگر دیوندر سنگھ کی جگہ کوئی مسلم آفیسر ہوتا تو پھر آر ایس ایس کا رد عمل کیا ہوتا

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 15-Jan-2020

کلکتہ(یو این آئی)سری نگر میں دہشت گردوں کے ساتھ ڈی ایس پی دیویندر سنگھ کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ ادھیر رنجن چودھری نے پوچھا ہے کہ اگر دیوندر سنگھ کی جگہ پر کوئی خان کا نام شخص ہوتا تو اس وقت بی جے پی اور آر ایس ایس کا ردعمل کیا ہوتا۔لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر دیویندر سنگھ کی جگہ دیوندر خان ہوتا تو اس وقت آر ایس ایس مسلمانوں کی مخالفت پر اترآتی۔لیکن میرے خیال میں دہشت گردی کوئی مذہب نہیں ہے“۔خیال رہے کہ دیوبندر سنگھ پر الزام ہے کہ اس نے اپنے گھر میں دو عسکریت پسند کو پناہ دی تھی۔پولس کے مطابق دیوندر سنگھ نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے دہشت گردوں کو پناہ دینے کیلئے 12لاکھ روپے لیے ہیں۔ادھیر چودھری نے ایک اور ٹویٹ میں پلوامہ حملے کے وقت دیوندر سنگھ کے رول پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے دوبارہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے الفاظ میں، اس طرح کے اعلی پولیس افسر کے عسکریت پسندوں سے تعلقات نے نئے سوالات کو جنم دیے ہیں۔ لہذا پلوامہ حملے کی دوبارہ تحقیقات ہونی چاہیے۔ ادھیر چودھری نے سوال پوچھا ہے کہ پلوامہ حملے کے وقت سیکورٹی انچارج کون تھا؟ ہم یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ وزیر داخلہ امیت شاہ اس معاملے کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper