این ڈی اے حکومت نے 60 فیصد قوانین ملک کو توڑنے والے بنائے: تسلیم

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 03-Jan-2020

نئی دہلی،(یو این آئی) قومی شہریت ترمیمی بل، این آر سی، این آر پی اور دفعہ 370کے خاتمے کو ملک کو توڑنے والا قانون قرار دیتے ہوئے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) سکریٹری ڈاکٹر تسلیم رحمانی نے کہاکہ اس حکومت نے دوسری میعاد کے چھ سات ماہ کے دوران 60 فیصد ایسے قوانین پاس کرائے ہیں جو ملک کو توڑنے والے ہیں۔ یہ بات آج یہاں انہوں نے تنظیم علمائے حق کے زیر اہتمام عالمی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہاکہ خواہ تین طلاق قانون کا معاملہ ہو، کشمیر سے دفعہ 370ختم کئے جانے کایا موجودہ شہریت ترمیمی قانون پاس کرانے کا، یہ سماج میں تفریق پیدا کرنے والے اور ملک کو توڑنے والے ہیں لیکن موجودہ شہریت ترمیمی قانون اس حکومت کے لئے الٹا پڑگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سمجھا کہ میڈیا کے ذریعہ افیم کھلائے جانے کے بعد قوم سو گئی ہے لیکن آسام کے عوام نے اس قانون کے خلاف سڑک پر اترکر سب کو جگادیا۔آل انڈیا تنظیم علمائے حق کے قومی صدر مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے موجودہ حکومت پر الزام لگایا کہ ایک مخصوص پالیسی کے تحت اس ملک کو زعفرانی رنگ میں رنگنے اور یہاں کی مشترکہ گنگا جمنی تہذیب کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ وہ دستور و آئین میں دی گئی آزادی ا ور دستوری حقوق کو پامال کرنے پر آمادہئ ہیں۔ انھیں یہاں کی کثرت میں وحدت پر مبنی روایات سے خدا واسطے کا بیر ہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ موجودہ مرکزی حکومت مہنگائی، بد عنوانی اور بھکمری جیسے عام مسائل پر کنٹرول کرنے میں سخت ناکام ہوچکی ہے، نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے ہندستان کی معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے،اسی لیے وہ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ایسے ایشوز کو اٹھاتی رہتی ہے جس سے اس ملک کے عوام کی توجہ ضروری بنیادی مسائل پر مرکوز نہ ہوسکے اور وہ حکمراں طبقہ سے اپنے بنیادی حقوق کا سوال نہ کرسکے۔