بی جے پی لوگوں کو الجھا کر اپنی ناکامیوں کو چھپانا چاہتی :حسن پرتاب گڑھی

Taasir Hindi News Network | Uploaded on 20-Jan-2020

سمستی پور (فیروز عالم) سی اے اے،این پی آر،اور این آرسی کے خلاف 10 جنوری سے ہیڈ کوارٹر کے سرکاری بس اسٹینڈ میں جاری ستیہ گرہ اتوار کے روز بھی بلا تعطل جاری رہا،جسکی صدارت سویدھان بچاؤ سنگھرش سمیتی کے وفد پھول بابو سنگھ،ضمیر حسن،فیض الرحمٰن فیض کی، جبکہ نظامت کے فرائض انجام سریندر پرساد سنگھ نے دیا،ستیہ گرہ سے خطاب کرتے ہوئے،بچہ شاعر سفیان پرتاب گڑھی نے کہا کہ جب ضرورت پڑی خون کی تو خون ہم نے دیا،اور آج ہم سے پوچھتے ہیں کہ ہم نے کیا کیا،اسے معلوم نہیں ہے کہ ہم نے لعل قلعہ، تاج محل کے علاؤہ بہت کچھ دیا، لیکن تم آر ایس ایس کے کتے بی جے پی والے بتلاؤ کے تم نے انگریز کے تلبے چاٹنے کے بجائے کیا دیا،مسٹر سفیان نے کہا کہ یہ ملک گاندھی نہرو،اشفاق اللہ،بابا صاحب،مولانا آزاد کا ہے کسی گوڈسے ،ساورکر کا نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ مودی جی آپ نے وعدہ کیا تھا کہ اچھے دن آئیں گے ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں اچھے دن نہیں چاہیے ہمیں پورانے دن ہی دے دو،شاعر نظم حسن پرتاب گڑھی نے کہا کہ این آر سی کو بی جے پی نہیں بلکہ کانگریس کے زمانہ میں لایا گیا تھا لیکن بی جے پی نے دراندازوں کے مسئلہ کو اپنا انتخابی ایجنڈا بنایا اور اسے اس کا فائدہ بھی ملا، جب 12 لاکھ ہندو این آر سی سے باہر ہو گئے تو بی جے پی کو شدید جھٹکا لگا اور اسے یہ محسوس ہونے لگا کہ اس کے ووٹر اس سے ناراض ہو جائیں گے تو بی جے پی نے ایک چال چلی اور یہ کہنا شروع کیا کہ دراندازوں کا مسئلہ صرف آسام کا نہیں ہے بلکہ پورے ملک کا ہے اور ہم پورے ملک میں این آر سی کو لاگو کریں گے لیکن اس سے پہلے شہریت ترمیمی بل لے کر آئیں گے،انہوں نے کہا کہ بی جے پی اصل میں لوگوں کو یہ سب معاملے میں الجھا کر اپنی ناکامیوں کو چھپانا چاہتی ہے، ایکٹوسٹ طارق انور چمپارنی نے کہا کہ حکومت نے آسام میں وعدہ کیا تھا کہ وہ این آر سی سے پہلے سی اے بی لے کر آئے گی اور اس نے ایسا کیا بھی۔ سی اے بی میں تجویز پیش کی گئی کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے ہندو، سکھ، جین، بودھ، پارسی اور عیسائی لوگوں کو ہر حال میں شہریت دے دی جائے گی۔ مطلب صاف ہے کہ جو لوگ این آر سی سے باہر ہوں گے اور اگر وہ غیر مسلم ہیں تو انہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں،انہوں نے کہا کہ فرض کریں کہ کوئی ان تین ممالک سے ہندوستان نہیں آیا اور اس کے پاس خود کو شہری ثابت کرنے کے حوالہ سے کوئی دستاویز نہیں ہے تو کیا وہ یہ ثابت کر پائے گا کہ وہ مہاجر ہے، جب وہ کہیں سے آیا ہی نہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ وہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے گا۔ ایسے لوگوں کا بعد میں کیا ہوگا یہ حکومت کو بھی نہیں معلوم،وہیں تاج پور شاہین باغ میں ،ستیہ گرہ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ملک میں یہ پہلا واقعہ ہے جب مودی شاہ حکومت نے سب سے پہلے قانون نافذ کیا ہے اور بعد میں مسکال ، پریس کانفرنس اور ریلی کے ذریعہ اس قانون کی حمایت کے خواہاں ہیں،مقررین نے کہا کہ اربوں اخراجات کے باوجود انسانی زنجیر کو فلاپ ہونا نمو حکومت کو عواموں نے اقتدار سے بے دخل کرنے کا ہری جھنڈی دکھا دیا ہے ،مقررین نے کہا کہ سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر نے نتیش مودی کے انسانی زنجیر کو سپر فلاپ بنا دیا۔ آنے والے دنوں میں ، شہریت سیاہ قانون مرکزی حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرے گی،اس موقع پر سفیان پرتاب گڑھی،ممبر اسمبلی اختر الاسلام شاہین،منوج پاسوان،اروند شرما،سنجے نایک،راہل رائے،منیش یادو،راکیش ٹھاکر وغیرہ نے خطاب کیا،شاہین باغ میں انصاف منچ کے بینر تلے منعقد ستیہ گرہ کی صدارت انصاف منچ کے ضلع صدر آفتاب احمد نے کی جبکہ نظامت کے فرائض انجام رنجیت برج نندن راجو رائے نے دیا۔