خواتین پر تشدد ’خدا کی توہین‘ ہے: پوپ فرانسِس

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 03-Jan-2020

ویٹیکن سٹی،کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسِس نے خواتین پر تشدد کو خدا کی توہین قرار دیا ہے۔ انہوں نے ایک خاتون زائر کو ہاتھ پر تھپڑ رسید کرنے پر معذرت بھی کی۔ایک روز قبل ویٹیکن سٹی میں ایک خاتون زائر نے پوپ فرانسِس کو اس وقت اچانک اپنی جانب زبردستی کھینچنے کی کوشش کی تھی، جب پوپ وہاں زائرین سے ملنے اور ایک بچے کے سر پر ہاتھ رکھ کر زائرین سے دور جانے کے لیے مڑے تھے۔ اچانک ہونے والی پیش رفت میں پوپ نے اپنا ہاتھ کھینچنے والی خاتون کے ہاتھ پر تھپڑ رسید کیا تھا۔پوپ فرانسِس نے تاہم آج بدھ کے روز عوامی سطح پر اس معاملے پر معذرت طلب کی۔ انہوں نے نئے سال کے پیغام میں خواتین کے خلاف تشدد کی مذمت بھی کی۔83 سالہ پوپ نے اعتراف کیا کہ منگل کو سینٹ پیٹرز اسکوائر پر غیر متوقع طور پر ان کا ہاتھ کھینچنے والی خاتون کی بابت انہوں نے تحمل کھو دیا تھا۔ سینٹ پیٹرز اسکوائر پر جمع ہزاروں زائرین سے خطاب میں پوپ نے کہا، ”کئی بار ہم صبر و تحمل کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ میں گزشتہ روز کی اس خراب مثال پر معذرت طلب کرتا ہوں۔‘‘انہوں نے خواتین پر تشدد کے حوالے سے ایک قدم آگے بڑھ کر بات کرتے ہوئے اسے ‘خدا کی توہین‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ زندگی کا منبع ہونے کے باوجود خواتین کو مسلسل تذلیل، تشدد، جنسی زیادتیوں، جبری جسم فروشی اور عمر بھر ان سے دب کر رہنا پڑتا ہے، جو عورت ہی کی کوکھ سے جنمے گئے۔”خواتین پر تشدد کی ہر قسم خدا کی توہین ہے۔ انسانیت کی بخشش کے لیے دنیا میں آنے والے (یسوع مسیح) نے ایک عورت کے جسم سے زندگی پائی تھی۔ ہمیں اپنے انسانیت کے معیار کو خواتین سے متعلق اپنے رویے سے جانچنا چاہیے۔‘‘پوپ نے اپنے خطاب میں اشیاء کی تشہیر کے لیے خواتین کے جسم کے استعمال کے موضوع پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کا جسم اشتہارات، منافع خوری اور پورنوگرافی کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین ہر حال میں ‘کنزیومرازم‘ سے چھٹکارا حاصل کریں۔ ”ان کی ہر حال میں تعظیم اور احترام کیا جانا چاہیے کیوں کہ ان کا وجود اس دنیا کا سب سے محترم جسم ہے۔‘‘انہوں نے اپنے خطاب میں خواتین اور مہاجرین کے موضوع پر بھی بات کی اور غربت اور جنگوں سے تنگ آ کر نقل مکانی کرنے والی نوجوان ماؤں کو روکنے والوں پر تنقید کی۔ ”آج ماؤں کی توہین کی جا رہی ہے کیوں کہ ہماری نگاہ میں سب سے محترم ترقی صرف اقتصادی ترقی بن گئی ہے۔‘‘