دارالعلوم ا شرفیہ کے طلبا نے بھی درسگاہ سے ہاہر نکل کر احتجاج کیا

Taasir Hindi News Network | Uploaded on 22-Jan-2020

دیوبند:(دانیال خان)متنازع شہریت ترمیمی ایکٹ کی مخالفت کا سلسلہ جاری ہے اسی کڑی میں دیوبند کے دینی ادارہ دارالعلوم اشرفیہ کے طلبہ نے بھی درسگاہ سے باہر نکل کرہاتھوں میں سی اے اے مخالف پلے کارڈ اور بینر لیکر احتجاج کرنا شروع کر دیا اور خانقاہ چوکی کی جانب بڑھنے لگے اسی دوران کسی نے احتجاجی مظاہرے کی اطلاع پولیس کو دے دی ۔دارالعلوم اشرفیہ دیوبند میں طلبہ کے ذریعہ احتجاج کئے جانے کی خبرملتے ہی پولیس کے اعلی افسران بھاری پولیس فورس کے ساتھ دارالعلوم اشرفیہ دیوبند پہنچ گئے اور ادارہ کے مہتمم مولانا سالم اشرف قاسمی کو طلبہ کے ذریعہ مظاہرہ کئے جانے کا قصور وار مانتے ہوئے انہیںاورطلبہ کو آئندہ مظاہرہ نہ کرنے کی وارننگ دیتے ہوئے طلبہ کو واپس درسگاہوں میں لوٹنے پر مجبور کر دیا۔ اس دوران طلبہ کو سمجھانے کی کمان خود ایس پی دیہات ودیا ساگر مشرا نےسنبھالی ۔انہوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہریت ترمیمی بل کسی کمیونٹی کی شہریت چھین نے کا نہیں بلکہ انہیں شہریت دینے کے لئے بنایا گیا قانون ہے ،انہوں نے طلبہ کو سی اے اے کی باریکیوں کو سمجھانے کے لئے پوسٹر اور پمفلیٹ تقسیم کرتے ہوئے کہا کہ کسی کوتشدد کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہم سماج کی حفاظت کے لئے ہیں،انہوں نے حاضرین سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ حالات کو پر امن بنائے رکھنے میں انتظامیہ کو مکمل تعاون دیں ۔بعد ازیں ادارہ کی دارالحدیث میں ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں تمام طلبہ نے آئین کی پاسداری کا عہد کیا ۔اس دوران ایس پی دیہات ودیا ساگر مشرا ،ایس ڈی ایم راکیش کمار،سی او چوب سنگھ ،کوتوالی انچارج یگھ دت شرما ،خفیہ محکمہ کے انچارج اروند چہل ،آر کے راوت ،بھارت بھوشن اورجمعیتہ علماء ہند کے ضلع سکیٹری ذہین احمد وغیرہ موجود تھے ۔