دارالعلوم حیدرآباد میں صفا بیت المال کی پچاس سے زائد شاخوں کا تربیتی و تنظیمی اجلاس

Taasir Hindi News Network | Uploaded on 24-Jan-2020

حیدرآباد(پریس ریلیز)رفاہی‘ ملی و تعلیمی مثالی ادارہ صفابیت المال انڈیا جس نے گزشتہ تیرہ سالوں میں اپنی مخلصانہ کوششوں سے اپنی پہچان بنائی اور ملک بھر میں انسانیت کی بنیاد پر خدمتِ خلق کا وسیع ترین جال بچھایا، جس نے علماء کرام کی قیادت و سیادت میں نئی ٹکنالوجی کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے منظم انداز میں معقول طریقہ پر اجتماعی انداز میں خدمتِ خلق کا فریضہ انجام دینے کا نیا نہج ملت کو دیا، جس نے تیرہ سالہ محنت کے بعد اس تنظیم کو مثالی تحریک کی شکل دی اور آج شہر حیدرآباد میں پچیس سے زائد شعبہ جات کا حامل یہ ادارہ دوسو باتنخواہ عملہ کی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے تندہی کے ساتھ ہمہ تن خدمات میں مصروف ہے ۔ صفا بیت المال کی خدمات کا دائرہ صرف شہر حیدرآباد تک محدود نہیں ہے بلکہ اس تنظیم نے اپنی مثالی تحریک کو ملک کی متعدد ریاستوں میں پھیلادیا ہے ۔ آج اس تنظیم کی تلنگانہ، آندھراپردیش، مہاراشٹرا، کرناٹک، آسام، جھارکھنڈ اور مدھیہ پردیش میں پچاس سے زائد فعال اور متحرک مضبوط شاخیں قائم ہیں۔ صفا بیت المال انڈیا کی شاخوں کا سالانہ تربیتی و تنظیمی اجلاس دارالعلوم حیدرآباد کے احاطہ میں مولانا غیاث احمد رشادی قومی صدر صفا بیت المال انڈیا کی صدارت میں 23؍جنوری بروز جمعرات صبح 9 بجے مولانا عبد الرقیب صاحب کی قرأت کلامِ پاک سے اس اجلاس کا آغاز ہوا۔ مرکزی ٹرسٹیان نے اس موقع پر ہدایات دیں۔ مولانا مصدق القاسمی نے فرمایا کہ ملک کے حالات جس قدر بدلتے جارہے ہیں ہمیں خدمت خلق کے میدان میں مختلف میدانوں میں کام کرنا چاہئے۔ مولانا وسیم الحق ندوی خازن نے فرمایا کہ رجوع الی اللہ کے ساتھ برادران وطن سے قریب ہونے کی اس وقت سنجیدہ فکر کی ضرورت ہے۔ مولانا فصیح الدین ندوی جنرل سکریٹری نے اس بات پر زور دیا کہ ہم صرف منصوبے نہ بنائیں بلکہ ان منصوبوں کی تکمیل کے لئے مختلف صلاحیتوں کے حامل افراد کو جوڑیں اور آپسی اتحاد کو فروغ دیں ۔مولانا اسماعیل قاسمی صاحب نے فرمایا کہ یہ وقت تجدید دین اور دعوت دین کا سنہری موقع ہے ۔ مولانا غیاث احمد رشادی نے مرکز کے تمام شعبہ جات کی تفصیلات پیش کیں۔ نیز مندرجہ ذیل علاقوں میں قائم شاخوں کی سالانہ رپورٹ پیش کی۔ کرنول ،ورنگل ،میدک ،عادل آباد ،ظہیر آباد ،کریم نگر ،اٹنور ،بھینسہ ،نظام آباد ،کلواکرتی ، گتی، محبوب نگر ،نلگنڈہ ،خانہ پور، سدا سیوپیٹ ،ناگرکرنول ، پداپلی ۔ بنگلور، بیدر،گلبرگہ، چکمگلور ،میسور، بیلاری ،شیموگہ ،ہاسن، دھارواڑ ، رائچور ، ساگر ، چنچولی ، ہمنا آباد ، بھدراوتی ، کڈور ، شاہ آباد، کشتگی۔ عثمان آباد، ناندیڑ ، جنتور ، ناگپور، جالنہ ، مانوت ، ہنگولی، دھاڑ، پونے ، لاتور، منجلے گاوں ، پربھنی ، اورنگ آباد ، بلڈانہ۔ آسام : بلاسی پاڑہ ، شکتلا ، نوگاوں ۔ جھارکھنڈ : جامتارا ، گریڈیہہ ۔ : شیوپوری۔ مولاناغیاث احمد رشادی نے اس بات کی ترغیب دی کہ وہ جذبۂ صادق اور نیتِ صالح کے ساتھ خدمات میں استقامت کے ساتھ منہمک رہیں۔ حضرت مولانا شاہ جمال الرحمن مفتاحی صاحب نے فرمایا کہ یہ مسرت کی بات ہے کہ صفا بیت المال کی خدمت کا دائرہ کار وسیع سے وسیع ہوتا جارہا ہے۔ کام کی لگن کاکنوں کی محنت کے ثمرات ہیں کہ یہ بہترین کام انجام پارہا ہے اللہ کو پانے کے لئے خدمت کو بڑا دخل ہے ۔اس اجلاس کی پہلی نشست کا اختتام ایک بجے ہوا۔ نماز ظہر اور ظہرانہ کے بعد دوسری نشست کا آغاز ٹھیک 2:30 بجے ہوا۔ جناب انیس احمد صاحب ایڈوکیٹ نے این آر سی اور این پی آر سے متعلقہ بنیادی اُصول کے سلسلہ میں رہنمایانہ اہم ترین باتیں پیش کیں اور مفتی عبدالمہیمن اظہر القاسمی نے سماج کو مساجد سے مربوط کرنے کیلئے مختلف تجاویز پیش کیں اور نبوی دور کو اسوہ بناکر اپنی مساجد کو سماج کا مرکز بنانے پر زور دیا۔ مولانا غیاث احمد رشادی نے صدارتی خطاب میں تمام شاخوں کی نمائندہ شخصیات کو اس بات کی تلقین کی کہ وہ مقامی دیگر تنظیموں سے اشتراک کرتے ہوئے بھی خدمات انجام دیں اور اپنے اپنے علاقوں کی زمینی حقیقتوں سے باخبر ہوں اور علاقہ کی غربت کی سطح کو سامنے رکھتے ہوئے مستحق افراد کی امداد کرنے میں پہل کریں او راپنے علاقہ کی باصلاحیت شخصیتوں سے استفادہ کریں اور باہمی تعاون و تناصر سے آپسی فاصلوں کو دور کرنے کی تدبیریں اختیار کریں۔ یہ اجلاس دعاء سے اختتام پذیر ہوا۔