ریاست

دربھنگہ کے ریوڑھا میں اقلیتی طبقہ کو بنایا گیا نشانہ

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 14-Jan-2020

دربھنگہ :(عبد المتین قاسمی )پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے صوبائی جنرل سیکرٹری محمد ثناء اللہ نے پریس بیان جاری کرکے کہا ہے کہ ریوڑھا میں ہوئے فساد میں پولیس کی لاپرواہی افسوسناک ہے ۔ ہم اس کی سخت مذمت کرتے ہیں ۔مہاویری جھنڈا کیلئے بانس کاٹنے کے رسم کے موقع پر دربھنگہ کے ریوڑھا میں فرقہ وارانہ فساد پھیل گیا تھا جس میں اقلیتی طبقہ کے قریب ایک درجن لوگ اور اکثریتی طبقہ کے بھی چند لوگ زخمی ہوگئے تھے وہیں دونوں طرف سے قریب 08-08 لوگ گرفتار بھی ہوئے ہیں۔انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کردیا ہے جس کے بعد گاؤں میں مکمل طور پر خوف کا ماحول بنا ہوا ہے۔ 12؍ جنوری کو مختلف تنظیموں کی ایک فیکٹ فاینڈینگ ٹیم نے پاپولر فرنٹ کے ریاستی کمیتی ممبر توصیف حسینی کی قیادت میں گاؤں کا دورہ کیا۔ جس میں تحقیق سے پتا چلا کہ 11؍ کو نماز ظہر کے وقت اکثریتی فرقہ کی ایک مذہبی ریلی چھوٹی مسجد کے پاس آئی، جس میں زور زور سے ڈی جے بجایا جارہا تھا جسے کم کرنے کی درخواست کرنے کے پر ششی رنجن پرساد چنو نامی ایک مقامی نیتا نے ماحول خراب کر دیا۔گانے کی آواز اور بڑھادیا گیا اور جذباتی نعرے لگایا جانے لگے۔ جس کی وجہ سے اشتعال کا ماحول بنااور پتھر بازی ہونے لگی جسمیں دونوں طرف سے زخمی ہوئے تو وہیں ایک ارشاد نامی نوجوان پر اکثریتی فرقہ کی طرف سے جان لیوا حملہ بھی ہوا لیکن چونکہ اس نے ہیلمٹ لگا رکھی تھی لہذا اسکی جان بچ گئی پھر بھی اس کے ہاتھ کی انگلیاں کٹ گئی۔شرپسندوں نے قبرستان کے اندر بھی آگ زنی کی جس سے وہاں رکھے اشیاء خاکستر ہوگئے ۔انتظامیہ نے دفعہ 144نافذ کردیا ہے، لیکن لوگوں کا کہنا ہی کہ پولس کا کردار بھی نہایت غلط رہا ۔کیونکہ پولس اکثریتی فرقہ کے ان نوجوانوں کا ساتھ دیتی دکھائی دی جوکہ فساد کا حصہ تھے۔ وہیں قانونی کارروائی میں بھی انتظامیہ جانبداری سے کام لیتی نظر آرہی ہے ۔لوگوں نے بتایا کہ ادھر چند سالوں سے لگاتار ششی رنجن پرساد چنن مسلسل مذہبی فساد کروانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ اور اس فساد کو بھی اس نے منصوبہ بندی طریقے سے انجام دیا ہیٹیم نے پایا کہ گاؤں کے لوگ مکمل طور پر خوف کے ماحول میں ہیں۔ یہاں تک کہ لوگ گھروں سے نکلنے اور بات کرنے میں بھی ڈر رہے ہیں ایک پولس والے نے بتایا کی پیس کمیٹی کی میٹنگ رکھی گئی تھی جس میں اقلیتی فرقہ کے لوگ نہیں پہونچ سکے ہیں۔پاپولر فرنٹ کے ریاستی جنرل سیکرٹری محمد ثناء اللہ نے مطالبہ کیاکہ منصفانہ جانچ کے ذریعہ چنن اور دیگر مجرمین پر سخت کارروائی کی جائے اور بے قصور لوگوں کو نشانہ بنانا بند کیا جائے اور جو بے قصور گرفتار ہیں انہیں رہا کیا جائے ساتھ ہی گاؤں میں پھیلے خوف کے ماحول کو دور کرنے کی ہرممکن کوشش کی جائے۔ فیکٹ فاینڈینگ ٹیم میں نیشنل کنفیڈریشن آف ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے ایدوکیٹ نورالدین زنگی ،شوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے دربھنگہ ضلعی سیکرٹری ڈاکٹر محبوب عالم اور کیمپس فرنٹ ایکٹوسٹ سیف الرحمان موجود تھے۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper