کھیل

دھونی بی سی سی آئی کی کانٹرکٹ لسٹ سے باہر

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 17-Jan-2020

نئی دہلی، (یواین آئی) ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) نے دو مرتبہ کے عالمی کپ فاتح کپتان اور وکٹ کیپر بلے باز مہندر سنگھ دھونی کو جمعرات کو جاری اپنے سنٹرل کانٹرکٹ سے مکمل طور پر باہر کر دیا جس کے ساتھ ہی ان کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ بی سی سی آئی نے ہندوستانی کھلاڑیوں کے لئے چار زمروں میں تقسیم اپنے سنٹرل کانٹرکٹ کی فہرست جاری کی جو اکتوبر 2019 سے ستمبر 2020 کی مدت کے لئے ہے، لیکن اس میں حیرت کی بات یہ ہے کہ دھونی کو کسی بھی گریڈ میں جگہ نہیں ملی ہے۔ دھونی گزشتہ سال تک ’اے‘گریڈ میں شامل تھے جس میں کھلاڑیوں کی تنخواہ پانچ کروڑ روپے سالانہ ہوتی ہے۔دھونی گزشتہ سال جولائی میں انگلینڈ میں ہوئے عالمی کپ کے سیمی فائنل میں ہندوستان کی شکست کے بعد سے ہی کرکٹ کے میدان سے باہر ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ سے کافی پہلے ریٹائرمنٹ لے چکے دھونی نے اب تک ون ڈے اور ٹی -20 کرکٹ سے ریٹائرمنٹ نہیں لیا ہے لیکن سنٹرل کانٹرکٹ سے باہر ہونے کے بعد ان کے کیریئر پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔بی سی سی آئی کا معاہدہ چار زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں اے پلس، اے، بی اور سی گریڈ شامل ہیں جس میں کل 27 کھلاڑی شامل ہیں۔ بورڈ کے اے پلس معاہدے میں ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی، محدود اوورز کے نائب کپتان روہت شرما اور تیزگیندباز جسپريت بمراہ کو رکھا گیا ہے جنہیں سات کروڑ روپے سالانہ ملیں گے۔گریڈ اے میں آف اسپنر روی چندرن اشون، رویندر جڈیجہ، بھونیشور کمار، چتیشور پجارا، اجنکیا رہانے، لوکیش راہل، شکھر دھون، محمد سمیع، ایشانت شرما، کلدیپ یادو اور رشبھ پنت کو شامل کیا گیا ہے جس میں کھلاڑیوں کوسالانہ پانچ کروڑ روپے ملتے ہیں۔گریڈ بی میں وکٹ کیپر ردھمان ساہا، امیش یادو، يجویندر چہل، ہاردک پانڈیا اور مینک اگروال شامل ہیں، جس کے تحت سالانہ تین کروڑ روپے کھلاڑیوں کو دیئے جائیں گے۔ وہیں سالانہ ایک کروڑ روپے کے گریڈ سی میں کیدار جادھو، نوديپ سینی، دیپک چاہر، منیش پانڈے، هہنو وہاري، شاردل ٹھاکر، شريس ایر اور واشنگٹن سندر کو شامل کیا گیا ہے۔سابق ہندوستانی کپتان دھونی کے لیے یقینا یہ بڑا دھچکا ہے جو اب تک ریٹائرمنٹ کے سوال پر خاموش ہیں۔ امید تھی کہ دھونی ورلڈ کپ -2019 کے بعد کیریئر پر روک لگا لیں گے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ سلیکٹر ایم ایس کے پرساد نے اس کے بعد اشارہ دیا تھا کہ اب دھونی کا ٹیم میں خود کار طریقے سے انتخاب ممکن نہیں ہے۔ دھونی فوج کے ساتھ ٹریننگ کے لئے چھٹی پر چلے گئے تھے، جس کے بعد ان کی ٹیم میں واپسی کی امید تھی لیکن انہیں محدود اوور کے فارمیٹ میں منتخب نہیں کیا گیا۔قومی ٹیم کے کوچ روی شاستری نے حالانکہ کہا تھا کہ اگر دھونی انڈین پریمیئر لیگ میں اچھا کھیلیں گے تو انہیں ٹی -20 ورلڈ کپ میں شامل کیا جا سکتا ہے لیکن سالانہ کانٹرکٹ سے ہی باہر کر دیئے گئے۔دھونی کے مستقبل پر ہی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ دھونی کے علاوہ جن کھلاڑیوں کو جگہ نہیں ملی ہے ان میں امباتی رائیڈو ، دنیش کارتک اور خلیل احمد بھی شامل ہیں۔بی سی سی آئی نے معاہدے میں بہت زیادہ تبدیلی نہیں کی ہے لیکن کچھ کھلاڑیوں کو فائدہ پہنچا ہے جن میں میلبورن میں قدم رکھنے والے ٹیسٹ سلامی بلے باز مینک کو براہ راست گریڈ بی میں جگہ ملی ہے جبکہ ساہا گریڈ سی میں کھسک گئے ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper