ہندستان ہندوستان

دہشت گردی کا سامنا کرنے والے مسلم نوجوان کو والدہ کی تدفین میں شرکت کی اجازت

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 18-Jan-2020

ممبئی (پریس ریلیز) 13/7 ممبئی سلسلہ وار بم دھماکہ معاملے کا سامنا کررہے ایک مسلم نوجوان کو اس کی والدہ کی تدفین میں شرکت کی گذشتہ کل ممبئی کی خصوصی عدالت نے اجازت دے دی جس کے بعد آرتھر روڈ جیل انتظامیہ نے اسے سخت حفاظتی بندوبست میں ممبرا میں واقع قبرستان میں لیکر گئے جہاں ملزم نے تدفین میں شرکت کرنیکے ساتھ ساتھ دیگر رسومات میں بھی شرکت کی۔ ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشدمدنی) کے دفتر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق گذشتہ شب دو بجے ملزم ہارون عبدالرشید نائیک کی والدہ کا ممبرا میں انتقال ہوگیا تھا جس کی خبر موصول ہوتے ہی سیکریٹری قانونی امداد کمیٹی گلزار اعظمی نے ایڈو کیٹ شاہد ندیم کو ہدایت دی کہ ملزم کی تدفین میں شرکت کیلئے خصوصی عدالت سے اجازت لینے کی کوشش کی جائے ۔ گلزار اعظمی کی ہدایت پر ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے خصوص مکوکا عدالت میں ایک عرضداشت داخل کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ گذشتہ شب ملزم کی والدہ کا اچانک انتقال ہوگیا ہے جس کی اطلاع ملزم کو جیل میں دی گئی جس پر ملزم نے تدفین میں شرکت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے لہذا عدالت کو اانسانی بنیادں پر ملزم کو تدفین و دیگر رسومات میں شرکت کرنے کی اجازت دینا چاہئے نیز ملزم کی معاشی حالت کے مد نظر پولس بندوبست کے چارجیس بھی معاف کردینا چاہئے ۔ایڈوکیٹ شاہد ندیم کی درخواست پر خصوصی مکوکا عدالت کے جج بھوسلے نے نا صرف ملزم کو تدفین میں شرکت کی اجازت دی بلکہ آرتھر روڈ جیل انتظامیہ کو حکم دیا کہ وہ ملزم سے آمد و رفت اور پولس بندوبست کا خرچ نہ لے ۔عدالت نے اپنے حکم نامہ میں کہا کہ جنازہ اور دیگر رسومات میں شرکت کرنے کے بعد ملزم کو دوبارہ آرتھر روڈ جیل میں مقید کیا جائے اور اس کی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔ عدالت نے ملزم کو تدفین اور دیگر رسومات میں شرکت کرنے کے لیئے تین گھنٹوں کا وقت دیا تھا حالانکہ جیل انتظامیہ کی سستی کی وجہ سے ملزم کے ممبرا پہنچنے میں دیری ہوئی لیکن ملزم نے تدفین میں بھی شرکت کی اور پھر اس کے اہل خانہ سے اس کے گھر پر جاکر ملاقات بھی کی۔

About the author

Taasir Newspaper