شہریت قانون کے خلاف بینی پٹی میں احتجاجی مظاہر ہ

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 08-Jan-2020

مدھوبنی،( شرف الدین تیمی) مرکز ی حکومت کی جانب سے لائے گئے کالے قانون این آرسی ،اور سی اے اے کے خلاف ایک اہم احتجاجی جلوس کوصبح دس بجے بینی پٹی کے پچھمی حلقے کے لوگ اسلم چوک نظرا سےتقریباً 10؍کیلو میٹر آئین بچائیں ملک بچائیں جمہوریت مہم کے تحت پیدل مارچ کرتے ہوئے بینی پٹی آئے تو وہیں ہرلاکھی. بسفی و مضافات کی عوام بھی ہزاروں کی تعداد میں مارچ کرتے ہوئے بینی پٹی پہونچی. جس میں بینی پٹی سب ڈویزن بسفی و ہرلاکھی کے قرب وجوار کے تقریبا 40000سے 50000 ہزار لوگوں نے شرکت کی. اور حکومت ہند سے اس نئے قانون کو واپس لینے کی اپیل کی، یہ جلوس اسلم چوک نظرا سے شروع ہوکر بنکٹہ ہوتے ہوئے بینی پٹی انومنڈل پہونچا، جہاں ایس ڈی او کومیمورنڈم پیش کیا گیا. اس احتجاجی جلوس میں جہاں نوجوانوں نے اپنی تعداد دیکھائی. وہیں بزرگوں اور بچوں کی بھی ایک اچھی خاصی تعداد تھی، جن کے ہاتھوں میں مختلف قسم کی تختیاں تھیں، جن پر کچھ اس طرح کے نعرے لکھے ہوئے تھے۔ مودی تیری تانا شاہی نہیں چلے گی نہیں چلے گی انقلاب زندہ باد”ہندومسلم سکھ عیسائی ہم سب ہیں آپس میں بھائی بھائی، وہیں اکثروبیشتر لوگ ہمCAAاور NRC کو رد کرتے ہیں کے نعروں والی تختی اپنے ہاتھوں میں لیے تھے. اس موقع پر پرویز عالم سابق مکھیا میگھون پنچایت نے کہا کہ یہ کسی پارٹی کے لوگ نہیں ہیں بلکہ یہ عام لوگ ہیں جن کی یہ مانگ ہیکہ سی اے اے قانون سرکار واپس لے اور این آرسی واین پی آر کو دیش میں لاگو نہ ہونے دیں، وہیں شبیر صاحب ایم ایل اے امیدوار ہرلاکھی نے کہا کہ جو آگ قانون کے نام پر لگائی گئی ہے. اس آگ سے سارا ہندوستان جل رہاہے۔آج اسی آگ کو بجھانے کےلئے ہندومسلم ایک جگہ جمع ہوئے ہیں. جہاں ایک طرف اس قانون کی مخالفت میں لوگوں میں زبردست جوش وخروش تھا وہیں دوسری طرف احتجاج کرنے والوں نے اپنے امن پسند ہونے کا بھی ثبوت دیا اور ساتھ ہی کسی آنے جانے والے کو نہ تکلیف ہونے پائے اس کا خاص خیال رکھتے ہوئے احتجاج کیا۔مظاہرہ میں شامل اہم لوگوں میں سے بینی پٹی حلقہ سے حسان بدر نظرا، مولانا افروز رانی پور، جیلانی سرپنچ بسیٹھا،مولانا شاہد مکیا وہیں بسفی حلقہ سے سابق ایم ایل اے امیدوار عبدالحئ، تمنے ،سرور ندوی،قاضی اعجاز قاسمی دملہ، سیف اللہ فہمی بانکا اور ہر لاکھی حلقہ سے سابق ایم ایل اے امیدوار شبیر احمد، ثناءاللہ صدیقی اور وجہ القمر سہرول کے علاوہ ہزاروں لوگ موجود تھے۔