عالمی کپ کی شکست کا بدلہ لینے اترے گی ٹیم انڈیا

Taasir Hindi News Network | Uploaded on 24-Jan-2020

آکلینڈ،(یو این آئی) مسلسل فتوحات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ٹیم انڈیا اپنی تاریخ میں پہلی بار پانچ میچوں کی ٹی -20 سیریز کھیلنے اترے گی اور نیوزی لینڈ کے خلاف جمعہ کو ہونے والے پہلے ٹی -20 میچ میں اس کا مقصد میزبان ٹیم سے حساب برابر کرنا ہوگا۔ہندستان نے اب تک اپنی تاریخ میں زیادہ سے زیادہ تین میچوں کی ٹی -20 سیریز کھیلی ہے اور یہ پہلی بار ہے کہ یندستای ٹیم پانچ میچوں کی ٹی -20 سیریز کھیلنے جا رہی ہے. 2020 کا سال ٹی -20 ورلڈ کپ کا سال ہے جس کا انعقاد اکتوبر میں آسٹریلیا میں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ہندستان پہلی بار پانچ میچوں کی سیریز کھیل رہی ہے۔ وراٹ کوہلی کی کپتانی میں ٹیم انڈیا نیوزی لینڈ کے خلاف گزشتہ شکست کا بدلہ چکانے اترے گی۔ ہندستان کو گزشتہ سال نیوزی لینڈ سے ون ڈے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں شاندار شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس کے علاوہ ہندستان کو19۔2018کے دورے میں نیوزی لینڈ سے ٹی -20 سیریز میں 1-2 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا. ہندستانی ٹیم اس بار دونوں شکست کا بدلہ چکانا چاہے گی تاکہ وہ ورلڈ کپ کے لئے اپنی تیاری مضبوط کر سکے۔ہندستانی ٹیم کو اس لمبی سیریز سے ورلڈ کپ کے لئے اپنی ٹیم مجموعی طور پرکھنے کا موقع ملے گا۔ہندستانی ٹیم پچھلی پانچ ٹی -20 سیریز سے ناقابل شکست رہی ہے۔ہندستان نے ویسٹ انڈیز کو 3-0 سے شکست دی تھی اور جنوبی افریقہ سے سیریز 1-1 سے برابر کھیلی تھی. ہندستان نے پھر بنگلہ دیش کو 2-1 سے، ویسٹ انڈیز کو 2-1 سے اور سری لنکا کو 2-0 سے شکست دی تھی۔ٹیم انڈیا ہوم سیریز میں شاندار کارکردگی کے بعد نیوزی لینڈ کے دورے پر پہنچی ہے جہاں اسے میزبان ٹیم کے سخت چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگرچہ ہندستانی ٹیم کو یہ دورہ شروع ہونے سے پہلے بائیں ہاتھ کے اوپنر شکھر دھون کے زخمی ہوکر باہر ہو جانے سے گہرا جھٹکا لگا ہے۔ شکھر کی جگہ نوجوان جارحانہ بلے باز سنجو سیمسن کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ہندستان کا ٹاپ آرڈر تو فارم میں ہے لیکن اس کا مڈل آرڈر ابھی تک مکمل طور سیٹ نہیں ہو پایا ہے۔ سیریز میں ایسے موقع آئیں گے جو مڈل آرڈر کا امتحان لیں گے اور اس امتحان میں پاس ہونے والے کھلاڑی ہی ورلڈ کپ ٹیم میں جگہ بنا پائیں گے۔ہندستانی ٹیم میں اس وقت سب سے زیادہ دلچسپ صورتحال وکٹ کیپر کے بارے میں ہے۔ تجربہ کار مہندر سنگھ دھونی فی الحال ٹیم سے باہر ہیں اور ریس سے بھی باہر ہیں لیکن سیمسن کو اس سیریز میں موقع ملنا رشبھ پنت کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اوپنر لوکیش راہل نے آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں پنت کے زخمی ہونے کے بعد موقع ملنے پر وکٹ کے پیچھے خود کو ثابت کیا ہے اور پہلے ٹی -20 کی شام کپتان وراٹ نے اشارہ دیا ہے کہ راہل کو آگے بھی ٹی -20 میں وکٹ كيپنگ میں موقع دینے کے لئے غور کیا جائے گا تاکہ ٹیم میں ایک اضافی بلے باز کو كھلايا جاسکے۔کرکٹ کے سب سے چھوٹے فارمیٹ میں ٹیم انڈیا کا نیوزی لینڈ کے خلاف اگرچہ ریکارڈ اچھا نہیں رہا ہے۔ ہندستانی ٹیم نے کیوی ٹیم کے خلاف اب تک 11 ٹی -20 میچ کھیلے ہیں جس میں اسے صرف 3 میں کامیابی ملی ہے جبکہ 8 مقابلوں میں ہار کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ آئندہ ٹی -20 ورلڈ کپ کو ذہن میں رکھتے ہوئے وراٹ اینڈ کمپنی نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں چھاپ چھوڑنا چاہے گی۔تجربہ کار اوپنر شکھر دھون، آل راؤنڈر ہاردک پانڈیا اور تیز گیند بازوں دیپک چاہر اور بھونیشور کمار کی غیر موجودگی میں ٹیم میں شامل نوجوان کھلاڑی بہتر کارکردگی کرنے کو بیتاب ہیں۔دوسری طرف نیوزی لینڈ کی ٹیم جیت کی تال کو برقرار رکھنے اترے گی۔