گواسکر-کپل تنازعہ سے ہندوستانی کرکٹ میں آیا بھونچال

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 03-Jan-2020

نئی دہلی، (یو این آئی ) ملک کے دو عظیم کھلاڑیوں سنیل گواسکر اور کپل دیو کے درمیان باہمی تنازعہ میں ایک وقت ہندستانی کرکٹ میں ایسا بھونچال آگیا تھا کہ ان دونوں سابق کھلاڑیوں کے درمیان کئی برس تک بات چیت ہی بند ہو گئی تھی۔ہندی کھیل صحافت میں مخصوص شناخت رکھنے والے پدمپت شرما نے اپنی کتاب انت ہین یاترا سفر (کھیل پترکارتا اور میں) میں اس معاملے کا انکشاف کیا ہے۔ ملک کے دو سابق کپتانوں گواسکر اور کپل کے تنازعہ نے ہندوستانی کرکٹ کو ہلا دیا تھا جس کی وجہ سے ان دونوں کھلاڑیوں کے درمیان طویل عرصے تک بات چیت بند رہی۔ ہندستان کے 1983 میں عالمی کپ جیتنے کی 25 ویں سالگرہ کے وقت یہ دونوں بڑے کھلاڑی پھر نزدیک آئے اور ان کی بول چال شروع ہوئی۔پدمپت نے اس کیس کا اپنی نئی کتاب میں مکمل ذکر کیا ہے۔ نومبر 1984 میں بنارس میں ہوئے سنگل وکٹ ٹورنامنٹ کے دوران گواسکر اور کپل کے درمیان انعام کی رقم کے متعلق اختلاف ہوا تھا کہ کپل کو ڈیوڈ گاور کی انگلینڈ ٹیم کے خلاف تیسرے ٹیسٹ سے باہر ہو جانا پڑا۔مصنف نے لکھا ہے کہ اس تنازعہ میں کون صحیح اور کون غلط تھا اس کی مکمل جانکاری نہیں ہو سکی ہے لیکن کولکتہ ٹیسٹ سے باہر بیٹھنے کے سبب کپل مسلسل 100 ٹیسٹ کھیلنے کی کامیابی سے محروم ضرور ہو گئے تھے۔ اس سنگل وکٹ ٹورنامنٹ کیلئے 16-17 نومبر کی تاریخ گواسکر نے طے کی تھی۔ گواسکر نے اس کے ساتھ ہی دلیپ وینگسرکر، سندیپ پاٹل، مہندر امرناتھ، روی شاستری، مدن لال، چیتن شرما، چیتن چوہان اور یشپال شرما سمیت 10 نام طے کئے تھے اور ان سب کے کھیلنے کے عوض میں دی جانے والی رقم بھی ایک پرچی پر لکھی تھی۔گواسکر نے سب سے زیادہ 10 ہزار روپے اپنے نام کے آگے لکھ رکھے تھے۔ قابل ذکر ہے کہ اس وقت ایک بین الاقوامی میچ میں 1500 روپے ملا کرتے تھے۔ گواسکر کے بعد دوسری سب سے زیادہ رقم 7000 روپے رقم کپل کو ملنی تھی اور کل میچ فیس 48000 روپے بنی تھی۔پدمپت نے اپنی کتاب میں لکھاکہ تمام کھلاڑی وقت سے ٹورنامنٹ کے لیے پہنچ گئے اور پہلا دن آرام سے گزر گیا لیکن دوسرے دن آرگنائزنگ کمیٹی کے ایک رکن نے ہوٹل کی لابي میں نشے کی جھونک میں امرناتھ سے کہہ دیا کہ گواسکر کو الگ الگ 40 ہزار روپے دیئے گئے ہیں۔