ہندستان ہندوستان

یوپی:شاہین صفت تحریک کاروں کے احتجاج کا سلسلہ بدستورجاری

Written by Taasir Newspaper

Taasir Hindi News Network | Uploaded on 21-Jan-2020

لکھنؤ:(یواین آئی) اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے حسین آباد میں واقع گھنٹہ پر شہریت (ترمیمی) قانون،این آر سی،این پی آر کے خلاف خواتین کا غیر معینہ احتجاج چوتھے روز بھی جاری رہا۔انتظامیہ کی احتجاج کو ختم کرانے کی ہر ممکنہ کوشش و جانبدارنہ کاروائی کا اپنے دانش مندانہ اقدام سے دفعہ کرنے والی تحریک کار خواتین کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔12 دسمبر کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے سی اے اے کے پاس ہوجانے اور صدر جمہوریہ کے دستخط کے بعد سے ملک کے مختلف حصوں میں اس کالے قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔لکھنؤ کے گھنٹہ گھر کا یہ احتجاجی مظاہرہ بھی اسی کڑی کا ایک حصہ ہے۔اس سے قبل یو پی میں سی اے اے کے خلاف احتجاج میں پولیس نے مظاہرین کو پٹیا،ان پر آنسو گیس کے گولے داغےاور سینکڑوں کو گرفتار کیا تھا۔احتجاجی مظاہروں میں تشدد پھوٹ پڑنے کے بعد تقریبا 23 افراد کی جانیں بھی گئیں تھیں۔ اس کے بعد یو پی میں خوف کی لہر سی دوڑ گئی تھی۔لکھنؤ کے گھنٹہ گھر پر جمعہ کو شروع ہونے والے احتجاج کے چوتھے دن آج پیر کو شاہین صفت تحریک کار خواتین نے وزیر داخلہ امت شاہ سے مطالبہ کیا کہ وہ حسین آباد کے گھنٹہ تشریف لائیں سی اے اے کے فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے ہمارے سوالات کا جواب دیں۔امت شاہ منگل کو ریاستی راجدھانی میں سی اے اے کی حمایت میں منعقد ایک ریلی سے خطاب کریں گے۔دہلی کے شاہین باغ سے تحریک حاصل کرنے کے بعد پہلے کانپور پھر پریاگ راج اور اس کے بعد لکھنؤ میں شروع ہونے والا احتجاج دن بدن بڑھتا اور منظم ہوتا جارہا ہے۔ پیر کو بھی احتجاج کے لئے گھنٹہ گھر پہنچنے والی خواتین و بچوں کے ہاتھوں میں ترنگا،پلے کارڈس اور بینر اور زباں پر حب الوطنی کے نعرے تھے۔خواتین ذوق در ذوق احتجاج میں پہنچ کر سی اے اے کے واپسی تک احتجاج کو جاری رکھنے کے لئے اپنے عزم واستقلال کا اظہارکررہی ہیں۔تاہم احتجاج کے دوران معمولی سا تنازع اس وقت اٹھ کھڑا ہوا جب احتجاج میں شامل ایک خاتون نے ’’یوگی زندہ با د کے نعرے لگانے شروع کردئیے۔جس کی دوسروں نے مخالفت کی۔اور اسے جلد ہی وہاں سے باہر کردیا۔

About the author

Taasir Newspaper