اردو زبان کی آبیاری میں مختلف مذاہب اور فرقے کا خون جگر شامل ہے: امتیاز کریمی

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 14-Feb-2020

پٹنہ(امتیاز کریم) محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، اردو ڈائرکٹوریٹ،حکومت بہارکے زیر اہتمام بہار ابھی لیکھ بھون بیلی روڈ پٹنہ میںمحفل گنگ و جمن (شعری محفل )کا انعقاد عمل میں آیا۔ تقریب میں اردو اور ہندی کے تقریباً پچاس مسلم اور غیر مسلم شعراءنے اپنی شاعری کے توسط سے گنگا جمنی تہذیب وثقافت کی علمبردار دو زبان میں اپنی شاعری پیش کی جس سے سامعین کافی محظوظ ہوئے۔ شعراءنے اپنے اشعار کے ذریعہ حب الوطنی، قومی یک جہتی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کو پیش کیا۔ اپنے اشعار سے سماج میں پھیلی معاشرتی برائی کے انسداد کی بات کہی۔ اس سے قبل تقریب کا آغاز شمع افروزی سے ہوا۔ تقرےب کی صدارت سلطان غزل سلطان اختر نے کی۔ استقبالیہ و تعارفی کلمات محکمہ کابینہ سکریٹریٹ کے جوائنٹ سکریٹری اور اردو ڈائرکٹوریٹ کے ڈائرکٹر امتیاز احمد کریمی نے پیش کیا۔ انہوں نے تمام مہمان شعراءاور محبان و عاشقان اردو کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں خوش آمدید کہا۔ انہوں نے آج محفل گنگ و جمن کے غرض و غائت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو ڈائرکٹوریٹ ، حکومت بہار کی طرف سے سجائی گئی اس محفل کا مقصد شعراءکی قدر دانی، حوصلہ افزائی اور اردو کا فروغ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے پروگرام سے جہاں اردو فروغ پاتا ہے، فضا آفرینی ہوتی ہے وہیں مختلف اقوام میں آپسی بھائی چارہ، میل و محبت اور اخوت کا ماحول بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقتاً اردو اور ہندی میں کوئی بنیادی فرق نہیں ۔ صرف رسم الخط کا فرق ہے ۔دائیں سے لکھنے پر اردو زبان کہلاتی ہے اور بائیں سے لکھنے میں وہی بات ہندی ہو جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں زبان کی ترقی اور فروغ کا راز ایک دوسرے زبان کی کامیابی میں مضمر ہے۔جناب کریمی نے کہا کہ مسلم اور غیر مسلم شعراءکو ایک اسٹیج پر لا کر یہ پیغام عام کرنا ہے کہ اردو کے فروغ میں ہر کسی کا خون جگر شامل ہے۔سبھی نے اس زبان کے زلفِ برہم کو سنوارا ہے۔ اس زبان کی آبیاری میں جہاں امیر خسرو، قلی قطب شاہ،ولی سراج، میر، غالب، مومن، ظفر، میرامن، اقبال،جوش، فیض، سرسید، نذیر احمد، حالی، شبلی،شاد، کلیم عاجز، جمیل مظہری ، قاضی عبد الودود، کلیم الدین احمد اور مولانا آزادنے کی ہے وہیں منشی بینی نارائن ، برج نرائن چکبست، رتن ناتھ سرشار، دیا شنکر نسیم،ہنس راج،،راجندر سنگھ بیدی، رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری، پریم چند، کرشن چندر، اپیندر ناتھ اشک، دیا شنکر نسیم،کنہیا لال کپور،سندر لال، آنند نرائن ملا، رام لعل، راما نند ساگر،جگن ناتھ آزاد، راجندر ناتھ شیدا وغیرہ کا کافی نمایاں اور سر فہرست کردار رہا ہے۔جناب کریمی نے مزید کہا کہ اردو ادب کا لہلہاتا ہوا باغ تنہا ایک باغباں کی محنت کا ثمرہ نہیں اس کی آبیاری مختلف جماعتوں مذاہب اور ممالک نے مل کر کی ہے۔ اس کی تعمیر وترقی میں سب نے مل کر اپنا خون پسینہ ایک کیا ہے۔ اردو کا شاعر خواہ مسلم ہو یا غیر مسلم اس کے یہا ں کرشن کی بنسی، گوتم کی آواز ، چشتی کی لَے اور نانک کی تعلیم سبھوں کاتذکرہ ملتا ہے۔ جناب کریمی نے کہا کہ اردو شاعری ایک مشکل فن ہے۔ اس فن کے ذریعہ شعراءسماج کی فلا ح و اصلاح کا کام کرتے ہیں جو یقینا لائق صدستائش امر ہے۔انہوں نے کہا کہ اردو شاعری نے ہر زمانے میں مذہبی رواداری ، انسان دوستی اور حب الوطنی کے خدمات کا اظہار کیا ہے ۔اسی لئے اردو شاعری کل بھی مقبول تھی اور آج بھی ہے۔ اپنے ابتدائی خطاب میں جناب کریمی نے طلباءو طالبات کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اردو کی تعلیم لازمی طور سے حاصل کریں۔ آپ انجینئر بنیں، ڈاکٹر بنیں، آئی اے ایس افسر بنیں ،ضرور بنیں۔ لیکن اپنی تہذیب اور ثقافت کی زبان اردو کو اپنے ایک سبجیکٹ کے طور پر پڑھیں ۔محفل گنگ و جمن میں اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کرنے والے شاعروں میں پدم شری ڈاکٹر شانتی جین، سلطان اختر، ابھے کمار بے باک، آلوک دھنوا، ستیہ نارائن، شفیع مہشدی، اپیندر ناتھ پانڈے، اسد رضوی، شمیم قاسمی، شبیر حسن شبیر،شگفتہ سہسرامی، اصغر حسین کامل، عطا عابدی، جمیل اختر شفیق، ارون کمار آریہ، سید رضوان حیدر، رمیش کنول، خالد عبادی، حشمت علی حشمت، پریم کرن، فرحت حسین خوشدل، سنجے کمار کندن، سمیر پریمل، بے نام گیلانی، معصوم رضا امرتھوی، اقبال اختر دل، شعیب رومی، بدر محمدی، ڈاکٹر مہتانا گیندر سنگھ، انیل کمار سنگھ، اشرف مولانا نگری، سید تنویر احمد، جنید عالم آروی، پریم ناتھ بسمل، گلفام صدیقی، تعظیم گوہر، صلاح الدین انور، جلال اصغر فریدی، محمد اشرف ، آر پی گھائل، صبا اختر شوق، بشر رحیمی، جمشید زاہد، دیمک گیاوی، کامران غنی صبا، امتیاز احمد کاکوی، اقبال احمد اقبال ، اویناش امن، معین گریڈیہوی، فا رو ق سریاوی وغیرہ کے اسماءشامل ہیں۔ ابتدائی کلما ت ڈاکٹر اسلم جاوداں نے پیش کئے جب کہ محفل گنگ و جمن کی نظامت ڈاکٹر خورشید انور نے کی۔ غلام رسول قریشی نے فیض کی ایک خوبصورت غزل ” گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے “ اپنی خوبصورت اور مترنم آواز میں پیش کی۔اس موقع پر پدم شری اعزاز سے سرفراز ڈاکٹر شانتی جین کو ڈائرکٹر امتیاز کریمی نے گلدستہ پیش کرکے اور شال پوشی کرکے اعزاز بخشا۔تقریب میں کثیر تعداد میں شائقین شعر و ادب موجود تھے خاص طور سے ناشاد اورنگ آبادی، اشرف النبی قیصر، ڈاکٹر محبوب عالم، انظار احمد صادق،طلعت پروین، جلال الد ین کاکوی وغیرہ کے اسماءقابل ذکر ہے۔ ڈائرکٹر امتیاز احمد کریمی کے تشکراتی کلمات پر تقریب کا اختتام ہوا۔پیش ہے شعراء کے ذریعہ پیش کئے گئے چند منتخب اشعار۔