انسانی زندگی میں لائبریری کو ایک خاص مقام حاصل:وزیر تعلیم

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 12-Feb-2020

پٹنہ(مشتاق) انسانی زندگی میں لائبریری کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ علم، ادب و ہنر کا بہت بڑا ذخیرہ یہاں موجود ہوتا ہے ۔ کتب بینی کا رغبت پیدا کرنے کیلئے لائبریری کا رول زبردست رہا ہے ۔ آج پوری دنیا میں جتنے بھی کامیاب لوگ ہیں ان کا تعلق کہیں نہ کہیں لائبریری سے ہوتا ہے ۔ نئی نسل کا کتابوں کی طرف رجحان کافی کم ہوا ہے جو لمحہ فکریہ ہے ۔ ہم لوگوں کو انکے درمیان کتب بینی کے شوق کو پیدا کرنے کی طرف کوشش کرنا ہوگی۔ان خیالات کا اظہار گورنمنٹ اردو لائبریری کو موصول ہونے والی نئی کتابوں کی نمائش کا افتتاحی تقریب میں بطور مہمان خصوصی حکومت بہار کے وزیر تعلیم کرشن نندن پرساد ورما نے آج گورنمنٹ اردو لائبریری میں کیا ۔انہوں نے مزید کہا کہ اردو سے انکو کافی لگائو رہا ہے یہ ہمارے گائوں کے مشترکہ تہذیب کی دین رہی ہے ۔ میرے گائوں کے ایک بزرگ اظہار صاحب کی دین ہے کہ آج میں نہ صرف اردو بولتا ہوں بلکہ اردو کو ایک مضبوط ستون مانتا ہوں ، انکی ترغیب کی وجہ سے مجھے اردو سے کافی محبت ہوگئی ہے ۔ جب بھی میں کہیں کمزور ی محسوس کرتا ہوں اردو کے استعمال سے میں ان مشکلات سے نکل آتا ہوں۔ انہوں نے اپنے حکومت کے کاموں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے وزیر اعلیٰ نے اپنی عوام کیلئے زبردست کام کیا ہے خاص طور پر اردو کیلئے انکے کاموں کو سراہا جانا چاہیئے انہوں نے مدرسہ کی جدید کاری میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ پوشاک ، سائیکل اور مڈ ڈے میل سے مدرسہ کو جوڑنے کا کام کیا ۔ تعلیم کے شعبہ میں بھی ہماری سرکار نے بہت اہم کا م کئے کئے ہیں ۲۲ ہزار اسکول کے عمارتوں کی تعمیر کرایا ۔ انہوں نے گورنمنٹ اردو لائبریری کے مسائل کے حل کیلئے یقین دہانی بھی کرائی۔ اس افتتاحی تقریب کی صدارت کرتے ہوئے گورنمنٹ اردو لائبریری کے کارگزار چیرمین و محکمہ تعلیم ، حکومت بہار کے ڈپٹی سکریٹری ارشد فیروز نے کہا کہ ہمارے آنے کے بعد اس لائبریری کے جو مسائل تھے اس میں کافی کمی آئی ہے ابھی بھی اس لائبریری کیلئے بہت کچھ کرنا ہے ۔ شائقین کتب کیلئے مزید کتابوں کو مہیا کرا یا جائیگا ۔ اس موقع پر بین الاقوامی شہرت یافتہ ادیب ڈاکٹر قاسم خورشید نے ہر دلعزیز وزیر تعلیم کرشن نندن پرساد ورما کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ اس لائبریری میں کسی وزیر تعلیم کا بیس برسوں بعد آن ہوا اور یہ اسلئے کہ وزیر موصوف اردو سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور ہمیشہ اردو دوستی کا ثبوت پیش کرتے ہیں اور ہمیشہ اردو دوستی کا ثبوت پیش کرتے ہیں ۔ یہ لائبریری ایک قدیم لائبریری ہے اور اس سے لوگ استفادہ کرتے ہیں ، میں نے بھی اپنی طالب علمی کے زمانے سے اس لائبریری سے استفادہ کیا ہے اور اس لائبریری کی مزید ترقی کیلئے کو شاں ہیں ۔مہمان اعزازی کی حیثیت سے وزیر تعلیم کے پرائیوٹ سکریٹری امیت کمار نے کہا کہ اردو لائبریری میں پہلی بار کا آکر بہت اچھا لگا یہاں کے ماحول سے مجھے کافی سکون ملا ۔ اس موقع پر اکبر رضا جمشید ، سابق ڈسٹرکٹ جج نے کہا کہ میں میں ۱۹۵۹ ء میں پتنہ آیا اور پٹنہ کالج میں گریجویشن میں داخلہ لیا ۔ میں جب بھی اس لائبریری کی طرف سے گزرتا تھا تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ یہ لائبریری مجھے بلا رہی ہے ۔ میں نے جتنی بھی کتابیں لکھی ہیںاس لائبریر ی میں موجود کتابوں کو پڑھ کر لکھی ہے ۔ نظامت کے فرائض معروف افسانہ نگار و مشہور ناظم فخر الدین عارفی نے نہایت ہی حسن و خوبی کے ساتھ انجام دیا اور لائبریری کی تاریخ اور عظیم آباد کی عظمت رفتہ کو شاندار اور جاندار طریقہ سے کیا ۔ گورنمنٹ اردو لائبریری کے انچارج لائبریرین پرویز عالم نے خطبہ استقبالیہ پڑھتے ہوئے کہا کہ گورنمنٹ اردو لائبریری پورے ہندوستان کی واحد اردو لائبریر ی ہے۔ جہاں نادر و نایاب کتابوں کا ذخیرہ ہے۔ ادب، تاریخ، فلسفہ، سماجیات ، معاشیات جیسے اہم زمرے میں منتخب و مقتدر مصنفوں کے ذریعہ تحریر کردہ کتابیں بھی اس لائبریری کی زینت ہے۔ جس سے عام قاری کے علاوہ ریسرچ اسکالر بھی استفادہ اٹھاتے ہیں۔معروف شاعرہ شمع کمار شمع نے وزیر موصوف کی شان میں ایک نظم پڑھا ۔ اس موقع پر کلیم اللہ کلیم دوست پوری، انوارالہدیٰ، معین گریڈیہوی، شاداب حسین، فیاض احمد، اظہر ، زینب فاطمہ، الطاف راجہ ، نثار الحق وغیرہ موجود تھے