بابائے جمالیات پروفیسر شکیل الرحمن کی ادبی خدمات

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 24-Feb-2020

پٹنہ،(پی آر) اردو تنقید نگاروں میں شکیل الرحمن کا صحیح طور پر تعین نہیں ہوسکا جس کے وہ مستحق تھے۔ وہ مقام انھیں نہیں دیاگیا۔ یہی وجہ ہے کہ نئی نسل بھی ان کے اسلوب سے ناواقف ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کے وژن میں مشرقی ادبیات کی پاسداری بھی ہے اور مغربی علوم و فنون کے اثرات بھی۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر علیم اللہ حالی بحیثیت مہمان خصوصی بہار اردو اکادمی پٹنہ میں منعقدہ یک روزہ قومی سمینار ’امن فاؤنڈیشن جھاجھا‘ کے زیراہتمام بہ اشتراک قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی بہ عنوان ’بابائے جمالیات پروفیسر شکیل الرحمن کی ادبی خدمات‘ کے موقعے پر کہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ پروفیسر شکیل الرحمن نے ترقی پسندی سے فائدہ اٹھایا لیکن اس میں محصور نہیں رہے۔ انھوں نے نفسیات اور جمالیات کی خوبیوں سے بھی دامن تنقید کو مالامال کیا۔ اس پروگرام کی صدارت مشتاق احمد نوری نے کی۔اس سے قبل امن فاؤنڈیشن کے سکریٹری جناب ایڈوکیٹ مقبول احمد نے تمام مہمانان کا پھولوں سے استقبال کرتے ہوئے ادارے کی غرض و غایت بیان کی۔ اس موقعے پر ڈاکٹر شاہد اختر کی نئی کتاب ’ہندوستان کا تہذیبی و ثقافتی منظرنامہ‘ کااجرا بدست مہمانان عمل میں آیا۔ اس موقعے پر کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر صفدر امام قادری نے کہا کہ پروفیسر شکیل الرحمن بسیار نویس تنقید نگار تھے۔ انھوں نے جمالیات کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سچ تو یہ ہے کہ ادب کو جمالیات سے انھوں نے ہی متعارف کرایا۔ کلاسیکی شاعری اور جدید شاعری پر ان کی گرفت مضبوط تھی۔ جن مقالہ نگاروں نے اپنے مقالے پیش کیے ان میں ڈاکٹر منظراعجاز، ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی، جناب خورشید حیات، ڈاکٹر ریحان حسن، ڈاکٹر طلحہ ندوی، ڈاکٹر ثوبان سعید، ڈاکٹر عبدالحی، ڈاکٹرتسلیم عارف کے نام قابل ذکر ہیں۔ صدارتی کلمات میں بہار اردو اکادمی کے سابق سکریٹری جناب مشتاق احمد نوری نے اپنی پرمغز تقریر میں اس بات کا اظہار کیا کہ شکیل الرحمن ایک مشکل نقاد تھے اس لیے ان کو سمجھنے اور ان کی بات تک بلاواسطہ پہنچنے میں معاصرین ادب کو دیر لگی۔شاید یہی وجہ ہے کہ عہد ساز ناقد اور جمالیاتی تنقید کے اسم بامسمیٰ کہے جانے والے ناقد کو عدم مقبولیت اور گمنامی کی اذیتیں بھی برداشت کرنی پڑیں۔ امن فاؤنڈیشن اور قومی اردو کونسل نے اس ادیب و ناقد کو یادکرکے قرض حسنہ ادا کیا۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر ریحان حسن نے بہ حسن و خوبی ادا کی جبکہ اظہارِ تشکر ڈاکٹر شاہد اختر نے ادا کیا۔