دنیا بھر سے

ترکی شام میں مہم جوئی سے باز رہے: روس کا انتباہ

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 20-Feb-2020

ماسکو/انقرہ،روس نے ترکی کو تنبیہ کی ہے کہ وہ شام میں مزید کسی بھی مہم جوئی سے گریز کرے۔ روس کا یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان ادلب میں بھرپور فوجی کارروائی کا عندیہ دے چکے ہیں۔خبر وںکے مطابق ادلب میں شامی فوجی اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں کے باعث صورتِ حال انتہائی خراب ہے جس سے انسانی المیہ جنم لینے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ترکی ایک جانب تو باغیوں کی حمایت کرتا ہے۔ تو دوسری جانب علاقے میں جنگ بندی کے لیے بھی کوشاں ہے۔ ترکی کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ لڑائی کے باعث بے گھر ہونے والے لاکھوں شامی مہاجرین تحفظ کے لیے ترکی کا رْخ کریں گے۔شام میں نو سال سے جاری جنگ کے دوران ترکی اب تک 37 لاکھ شامی مہاجرین کو پناہ دے چکا ہے۔ترک صدر ایردوان کے مطابق جنگ بندی کے لیے شامی حکومت کے حمایتی روس کے ساتھ مذاکرات بے نتیجہ رہے ہیں۔ ترکی نے رواں ماہ کے اختتام تک شامی فوج کے ادلب سے انخلا کا الٹی میٹم بھی دے دیا ہے۔ایردوان کا کہنا ہے کہ “ہم گنتی کر رہے ہیں۔ آخری وارننگ دے رہے ہیں۔ اب بھی وقت ہے شامی فوجی ادلب سے نکل جائے ورنہ ہم کارروائی کرنے پر مجبور ہوں گے۔”خیال رہے کہ روس، ترکی اور شام 2018 میں ادلب میں جنگ بندی معاہدے پر متفق ہوئے تھے۔ جس کے تحت ترکی نے ادلب میں چیک پوسٹس قائم کی تھیں۔ اب ترکی کا یہ کہنا ہے کہ شامی فوج ان چیک پوسٹس کے قریب نہ آئے ورنہ کارروائی ہو گی۔روسی حکومت نے ترکی کو خبردار کیا ہے کہ ترکی کی مہم جوئی نامناسب اقدام ہو گا۔اقوامِ متحدہ نے بھی گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ ادلب میں لڑائی کے باعث بے گھر ہونے والوں میں زیادہ تر تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔ موسم کی شدت کے باعث بچوں کی اموات بھی ہو رہی ہیں۔امدادی اداروں نے فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ افراد تک امداد کی رسائی کے لیے محفوظ راستہ دیا جائے، تاکہ بڑے انسانی المیے سے بچا جا سکے۔سیرئین آبزروری آف ہیومن رائٹس کے مطابق شامی حکومت کے دسمبر میں شروع کیے جانے والے اس آپریشن میں اب تک 400 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔صحتِ عامہ کے اداروں کے مطابق اس کارروائی میں بلاتفریق رہائشی علاقوں، اسکولوں، مسجدوں اور کاروباری مراکز کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جنگ بندی کے لیے سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کو روس ویٹو کرتا رہا ہے۔شام کی فوج نے ادلب میں باغیوں کے آخری ٹھکانے ختم کرنے کے لیے بھرپور کارروائی کا آغاز کر رکھا ہے۔ شام میں سرگرم امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے 10 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ترکی جو باغیوں کی حمایت کرتا آیا ہے، اس نے شامی فوج کی حالیہ کارروائیوں پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ ادلب سے لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے نقل مکانی کر رہے ہیں۔ لیکن موسم کی شدت کے باعث بھی اْن کی جانوں کو خطرہ ہے۔سیرئین این جی اوز الائنس نے استنبول میں نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ نقل مکانی کرنے والے افراد کو خوراک، رہائش اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے 33کروڑ ڈالرز درکار ہیں۔

روس اور ترکی نے 2018 میں ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت ادلب میں فوجی کارروائی روکنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔فریقین اس علاقے میں مشترکہ گشت کرنے پر رضا مند ہو گئے تھے تاکہ کوئی جھڑپ نہ ہو لیکن اس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ترکی نے روس پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا تھا لیکن روس نے اسے مسترد کر دیا تھا۔شام میں جاری جنگ کے باعث ترکی نے لگ بھگ 37 لاکھ شامی مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے۔ ترکی اپنی سرحد سے ملحق شمالی شام میں ‘سیف زون’ قائم کرنا چاہتا ہے۔ جہاں وہ اْن مہاجرین کی آباد کاری کے علاوہ اپنی داخلی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے دہشت گرد گروہوں کے خلاف بھی کارروائی کر رہا ہے۔خیال رہے کہ 2011 میں شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ دمشق، حلب اور دیگر شہروں میں ہونے والے مظاہرین نے ملک میں جمہوری اصلاحات نافذ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ مظاہرین نے صدر بشار الاسد کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا۔لیکن شامی حکومت نے ان مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا اور اس دوران شام میں مختلف عسکری گروہ بھی منظم ہو گئے۔شام میں لڑائی عالمی قوتوں کے مابین ایک پراکسی وار میں تبدیل ہو گئی تھی۔ روس اور ایران شامی حکومت کی حمایت جب کہ امریکہ، ترکی اور سعودی عرب شامی حکومت کی مخالفت کر رہے ہیں۔ترکی شامی کردوں کو اپنی داخلی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ ترکی کو یہ خدشہ ہے کہ یہ گروپ ترکی میں کردوں کی خود مختار ریاست بنانے کا خواہاں ہے۔نو سال سے جاری اس جنگ میں اب تک لاکھوں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper