تمام اضلاع میںممبر سازی مہم کو منظم طریقے سے چلایا جائے:مفتی ظفر قاسمی

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 12-Feb-2020

بھوگائوں ،مین پوری(حافظ محمد ذاکر ) مسلمانوں کی سب سے قدیم اور فعال تنظیم جمیعت علمائے ہند کی ممبر سازی مہم کو رفتار دینے کی غرض سے جمیعت علماء اترپردیش وسط زون کے جنرل سکریٹری مفتی ظفر احمد د قاسمی کی قیادت میں ایک چار رکنی وفد نے نے ضلع مین پوری کا دورہ کیا ،آج قصبہ بھوگائوں میں واقع مدرسہ عربیہ در س القرآن مدینہ مسجد محلہ محمد سعید میں جمیعت علماء کی ممبر سازی مہم کا جائزہ لیا مقامی ذمہ داران کو ضروری ہدایات دیں ،ذمہ داران کو مخاطب کرتے ہوئے وسط ژون کے جنرل سکریٹری مفتی ظفر احمد قاسمی نے کہا ممبر سازی مہم کو منظم طریقے سے چلایا جائے، اور اس کیلئےقصبات اور مواضعات کے گھر گھر پہونچ کر جمعیتہ علماء ہند کا پیغام لوگوں تک پہونچایا جا،انہوں نے شہر وقصبات میں وارڈ کمیٹیاں تشکیل دینے پر خصوصی توجہ دلائی، انھوں نے بتایا کہ جمعیتہ علماء مسلمانوں کی اپنی تنظیم ہے اور اس کو مستحکم کرنے کی ذمہ داری بھی ہم سب کی ہے اس لیے ہم سب کو مل کر اس کو مستحکم کرنے کی کوشش کرنا چاہیے ،انہوں نے کہا جمعیتہ علماء ہند مسلمانوں کی سب سے قدیم سوسالہ سنہری تاریخ رکھنے والی جماعت ہے، اس وقت ہندوستان میں جمعیتہ علماء ہند ہی مسلمانوں کی سب بڑی اور نمائندہ تنظیم ہے جمعیتہ علماء ہند نے ہر نازک موڑ پر ملک وملت کی خدمات میں قابل قدر کارنامے انجام دیے مفتی ظفر احمد قاسمی نے جمعیتہ علماء ہند کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا یہ وہی جماعت ہے جس کو شیخ الہند کی فکر کے ذریعے وجود میں لایا گیا، اور مفتی کفایت اللہ دہلوی اور شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی نے اپنی قربانیوں سے ملک گیر پیمانے پر پہونچا دیا، آئین سازی کا معاملہ ہو یا اسلامی کردار وتشخص کا مسئلہ جمعیتہ علماء ہند نے ہر محاذ پر نمائندگی کا فریضہ انجام دیا اس وقت پورے ملک میں دیش بچاؤ سنودھان بچاؤ تحریک چل رہی جمعیتہ علماء مظاہرین کے ساتھ کھڑی ہے ،اور آئین ودستور کی حفاظت کے لئے سپریم کورٹ میں رٹ دائر کی گئی ہے ۔اس موقع پر مین پوری میں جنرل سکریٹری حافظ محمد خالد حاجی محمد اسحاق صاحب حافظ محمد عمر صاحب حافظ ذیشان اور سرکردہ شخصیات موجود رہیں وفد میں حافظ عبد الخالق سکریٹری ضلع فرخ آباد مفتی منتظر قاسمی صدر قائم گنج اور حافظ وحید الزماں خازن جمعیتہ علماء فرخ آباد موجود رہے۔