ستر سال میں پہلی بار مذہب کی بنیاد پرشہریت دی جارہی ہے:ولی رحمانی کلکتوی

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 06-Feb-2020

سمستی (فیروز عالم)سی اے اے این آر سی ، جیسے سیاہ غیر آئینی قانون کو واپس لینے کے مطالبے پر ضلع ہیڈ کوارٹر سے متصل سرکاری بس اسٹینڈ میں آئین بچاؤ سنگھرش مورچہ کے بینر تلے 10 جنوری سے شروع غیر متعینہ ستیہ آج 27 ویں روز بھی مسلسل جاری رہا ستیہ گرہ سے خطاب کرتے ہوئے ایکٹیویٹیس نوجوان انقلابی مقرر ولی رحمانی کلکتوی نے سویدھان بچاؤ سنگھرش سمیتی کے بینر تلے منعقد ستیہ گرہ میں کہیں انہوں نے کہا کہ،ملک بھر میں جاری لڑائ آنے والے دنوں میں تواریخ کو موڑنے کی لڑائی ہے،چوکیدار اپنی چوکیداری کو بھول گئے ہیں،انہوں نے کہا کہ شناختی کارڈ پاسپورٹ،آدھار کارڈ،وغیرہ کو حکومت شہریت کا سرٹیفیکیٹ نہیں مان رہی ہے ،انہوں نے کہا کہ،مرکزی حکومت اور کتنا دھوکہ دے گی اور جھوٹ بولے گی،مرکزی حکومت کہتی ہے کہ شہریت ترمیمی قانون 2019 شہریت دینے کا قانون ہے،شہریت چھیننے کا قانون نہیں ہے، لیکن بی جے پی یہ بھی بتائے کہ اگر وہ شہریت دے رہی ہے تو کس بنیاد پر شہریت دی جارہی ہے ، ستر سال میں پہلی بار ایسا ہوا کہ مذہب کی بنیاد پرشہریت دی جارہی ہے،ولی رحمانی نے مزید کہا کہ سی اے اے کو این آر سی کے ساتھ جوڑ کر دیکھنا ہو گا ۔ وزیر داخلہ جس کا بار بار اظہار کر چکے ہیں کہ سی اے اے تنہا نہیں ہے بلکہ اس کے بعد این آر سی بھی آئے گا۔اب وزیر اعظم اور بی جے پی کے دوسرے لیڈران اعلان کر رہے ہیں کہ این آر سی کا کوئی ذکر ہی نہیں ہوا،اگر یہ بات ہے تو بی جے پی اعلا ن کرے کہ امت شاہ عوام میں اور پارلیامنٹ میں بھی جھوٹ بول رہے تھے،یہی نے بلکہ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے ) کے تعلق سے چنئی میں ایک پروگرام کے دوران کہا کہ شہریت قانون کے تعلق سے حکومت ان لوگوں سے بات چیت کو تیار ہے جنہیں اپنی شہریت کے چھن جانے کا اندیشہ ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ سی اے اے شہریت دینے کا قانو ن ہے ، شہریت چھیننے کا قانون نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جتنے لوگ مختلف صوبوں کے دوسرے صوبوں میں محنت مزدوری کرتے ہیں جن کی تعداد حکومت کی رپورٹ کے مطابق اکتالیس کروڑ ہے وہ کہاں سے اپنی شہریت ثابت کریں گے ، جو لوگ گاؤں دیہات میں رہتے ہیں ، غریب اور ان پڑھ ہیں، جنہیں سیلاب اور آتش زنی کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ کہاں سے اپنی شہریت ثابت کریں گے،ستیہ گرہ کی صدارت مشترکہ طور پر پھول بابو سنگھ،رینو راج،اسرار دانش نے کی جبکہ نظامت کے فرائض انجام عظمی رحیم،و ناصرین انجم نے دیا۔