شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے 23مسلم نوجوانوں کی درخواست ضمانت منظور

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 17-Feb-2020

ممبئی(پریس ریلیز) شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے دوران پولس اور برادران وطن کے ساتھ جھگڑا ہونے کے بعد مہاراشٹر کے شہر دھولیہ سے گرفتار 23مسلم نوجوانوں کو آج سیشن عدالت نے مشروط ضمانے پر رہا کرد یا ۔یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار احمد اعظمی نے دی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جمعیۃعلماء کی جانب سے مقرر کئے گئے وکیل شیخ اشفاق کی مدلل بحث کے بعد سیشن عدالت کے جج ایم جی چوہان نے ملزمین فیض خان ظہیر خان ،مبین بابو لال،شاہ رخ شیخ منیر ،عرفان امداد علی سید،جنید سید علی،الطاف شاہ رئیس شاہ،کلیم حسین ،انصاری شاہد علی ریاست علی،جنید احمد عبد الخالد،شعیب عبد الحامد،عمران احمد عبد الحامد،سرفراز غلام رسول،ثاقب علی اشرف علی،سر فراز احمد،سفیان محمد سالم ،قاسم محمدہارون انصاری،وسیم زین الدین شیخ،ساجد حسین انصاری،ندیم نعیم شیخ ،اعجاز غیاث الدین شیخ ، شیخ سمیر شیخ حنیف،اسلم عبد الغفور مومن،محمد حسن محمد یعقوب انصاری کو عدالت نے پندرہ ہزار کے ذاتی مچلکہ پر رہا کئے جانے کا حکم جاری کیا ۔دھولیہ پولس نے متذکرہ ملزمین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات پراپرٹی کو نقصان پہنچانے والے قانون کی دفعہ 3-4کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا۔عدالت نے ایک جانب جہاں ملزمین کو پندرہ ہزار روپئے کے ذاتی مچلکہ پر رہا کئے جانے کا حکم جاری کیا ہے وہیں انہیں فی ملزم پانچ ہزار روپئے بطور ڈپازٹ عدالت میں جمع کرنے کا حکم دیا ، ملزمین کی کمزورمالی حالت کے پیش نظر جمعیۃعلماء دھولیہ کے ذمہ داروں نے ملزمین کی جانب سے ڈپاذٹ کی رقم جمع کروادی۔واضح رہے کہ 29جنوری کو شہریت ترمیمی قانون کے خلاف بھارت بند کے دوران دھولیہ میں ہنگامہ ہوگیا تھا جس کے دوران مظاہر ین اور پولس کے درمیان پتھر بازی ہوئی تھی پولس نے یک طرفہ کارروائی کرتے ہوئے مسلمانوں کو گرفتار کیا تھا ۔ایڈوکیٹ اشفاق کی معاونت کے لئے جمعیۃعلماء نے ایڈو کیٹ نلیش مہتا کو بھی مقرر کیا تھا جبکہ ملزمین کی ضمانت پر رہائی ک یلئے مقامی جمعیۃعلماء کے ذمہ دار صوفی مشتاق ،مصطفیٰ پپو ملا،مولانا شکیل احمد قاسمی ،محمود ربانی،حاجی اصغر علی شوال انصاری،پرویز شیخ و دیگر نے بھی کوشش کی ۔