ریاست

مرکزی حکومت ملک کے سلگتے مسائل سے توجہ بھٹکانے کے لیے سی اےاے قانون لیکر آئی ہے: طارق انور

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 14-Feb-2020

مظفرپور(اسلم رحمانی) سی اےاے این آر سی اور این پی آر کےخلاف چل رہے احتجاج کی حمایت میں سابق رکن پارلیمنٹ کانگریسی لیڈر طارق انور مظفرپور پہنچے اس درمیان ماڑی پور اور مرتضی کمپلیکس میں چل رہے احتجاجی دھرناکو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہاتما گاندھی آخری سانس تک فرقہ واریت کی مخالفت اور ہندو – مسلم اتحاد کے لئے جدوجہد کرتے رہے۔ ناتھو رام گوڈسے نامی قاتل نے گاندھی کو گولی مار کر قتل کیا اور آج بھی ساورکر اور گوڈسے کے پیروکار اشتعال انگیز تقاریر اور بھاشنوں سے ملک کے اتحاد کو توڑنے کا خونی کھیل کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ ہر روز پاکستان – پاکستان اور ہندومسلمان کرکے عوام کے مسائل بے روزگاری، تعلیم، صحت، بدعنوانی، مہنگائی اور جرائم وغیرہ سے توجہ بھٹکانے کے لئے زور لگا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے آئین پر غلط نظر رکھنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے، اس ملک کی مٹی میں بھائی چارہ ہے جس کو کوئی دنیا کی طاقت ختم نہیں کر سکتی۔ سابق ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ نفرت کی آگ کی وجہ سے ہی تعلیمی اداروں پر حملہ کرکے نوجوانوں کو مارا پیٹا جا رہا ہے اور پولیس و فوج کا بھی فرقہ وارانہ کرن کرکے غلط پالیسیوں کی مخالفت کرنے والوں کو ٹکڑے ٹکڑے گینگ، اربن نکسل اور غداری کے الزام گھڑ کر جیلوں میں ٹھوسا جا رہا ہے۔ اسی لئے ملک کی خواتین، نوجوان اور کسان – مزدور سڑکوں پر ہیں۔ملک اسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کر سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی مٹی میں محبت اور احترام ہے، یہاں کے لوگوں کو توڑنے کی سازشیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی، ملک میں لوگوں کو بیدار ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا مستقبل لوگ طے کریں گے، ہم جب ایک ساتھ آئیں گے تبھی اپنے حقوق پر پہرہ دے سکیں طارق انور نے سی اے اے، این پی آر، اور این آر سی کو واپس لینے کا مطالبہ دوہراتے ہوئے کہا کہ کالے قوانین کے خلاف احتجاج کا یہ سلسلہ مزید دراز ہوگا اگر حکومت نیند سے بیدار نہیں ہوئی تو!انہوں نے کہا کہ ہندو مسلم اتحاد کو توڑنے والے لوگ ملک کے دشمن ہیں، ان کے خلاف عوامی تحریک جاری رہے گی طارق انور نے مودی حکومت ملک کےسلگتے مسائل سے لوگوں کی توجہ بھٹکانے کے لیے نئےنئے قوانین لارہی ہے انہوں نے سی اےاے این آر سی اور این پی آر کو کالا قانون بتاتے ہوئے مرکزی حکومت سےمطالبہ کیاہےکہ وہ اس قانون کوواپس لے انہوں نے سی اےاے این آر سی اور این پی آر کو سماج تقسیم کرنے والا قانون بتاتے ہوئے کہا کہ یہ قوانین غیر ضروری ہے کیونکہ شہریت دینے کیلئے پہلےسے ہی بھارت کی آئین میں نظم دستیاب ہے تو پھر نئے قوانین کی ضرورت کیوں پیش آگئی اس موقع پر کانگریس اقلیتی سیل کے ضلعی صدر منور اعظم، مظفرپور کانگریس کمیٹی کے صدر مکل کمار سنگھ،راشد چودھری ،سید فیصل نعیم کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں خواتین مظاہرین موجود تھیں ۔

About the author

Taasir Newspaper