ممبئی ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق میرٹ کی بنیاد پر منتخب ہونے والے تمام ڈاکٹروں کو ان کی پسند کے اضلاع میں تقرری کی جائے گی

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 29-Feb-2020

ممبئی (پریس ریلیز)یونانی ڈاکٹروں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر آج ممبئی ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے یونانی ڈاکٹروں کی تقرری کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کیئے نیز عدالت نے سرکاری وکیل کے بیان کو اپنے ریکارڈ پر درج کیا جس نے عدالت کو بتایا کہ میرٹ کی بنیاد پر تقرری کے اہل تما م ڈاکٹروں کو ان کی پسند کے اضلاع میں تقرری کیئے جانے کی کوشش کی جائے گی۔واضح رہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے آیوش بھارت یوجنا کے تحت آیورویدا اور یونانی نرسنگ کی سی ایچ او پوسٹ بھرتی کے لیئے 6 ماہ کی خصوصی ٹریننگ کو لازمی قرارد یا گیاتھا لیکن بعد میں یونانی ڈاکٹروں کی ٹریننگ کو 8 ماہ کردیا گیا ہے تھا جس کے خلاف جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی)نے ممبئی ہائیکورٹ سے رجو ع کیا تھا کیونکہ یونانی ڈاکٹروں کے علاوہ دیگر ڈاکٹروں کو ٹریننگ 6 ماہ ہی کرنا قرار دیا گیا تھا جبکہ یونانی ڈاکٹرس جس میں اکثریت مسلم ڈاکٹروں کی ہے کو دو ماہ زیادہ ٹریننگ کرنا لازمی قرارد یا گیاتھا جس کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ سے رجو ع کیا گیا تھا ۔گذشتہ ایک ہفتہ سے ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس ایس ایس شندے اور جسٹس گیان سنگھ بشت کے روزنہ بحث ہورہی ہے جس کے دوران ایڈوکیٹ افروز صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ یونانی ڈاکٹروں کے علاوہ تمام ڈاکٹروں کو چھ ماہ کی ٹریننگ کا حکم دیا گیا ہے جبکہ یونانی ڈاکٹروں کو آٹھ ماہ کی ٹریننگ نیز چھ ماہ کی ٹریننگ کے بعد میرٹ کی بنیاد پر ڈاکٹروں کی تقرری کردی جائے گی جس کی وجہ سے آٹھ ماہ کی ٹریننگ کرنے والے یونانی ڈاکٹروں کے لیئے نوکریاں ختم ہوجائیں گی لہذا عدالت مداخلت کرکے اس بات کا یقینی بنائے کہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو اور میرٹ کی بنیاد پر تقرری ہو۔حالانکہ عدالت نے چھ ماہ اور آٹھ ماہ کی تقرری والے معاملے میں کوئی بھی فیصلہ صادر نہیں کیا کیونکہ آیوش بھارت یوجنا کے ڈائرکٹر نے عدالت میں حاضر ہوکر بیان دیاکہ ان تمام یونانی ڈاکٹروں کو ان کی پسند کے اضلاع میں تقرر کیا جائے اگر وہ ٹریننگ کے بعد امتحان پاس کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو۔اس سے قبل یونانی مسلم ڈاکٹروں کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی کے خلاف ڈاکٹر خورشید عالم قادری (سابق رکن MCIM) کی قیادت میں ڈاکٹروں کے ایک وفد جس میں ڈاکٹر مدثر، ڈاکٹر افتخار نیر، ڈاکٹر سہل قادری، ڈاکٹر جمیل خان، ڈاکٹر محمد ساجد، ڈاکٹر قمرالزماں،ڈاکٹر محمد شاکر، ڈاکٹر معیدولی صدیقی وغیرہ نے جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی اور جنرل سیکریڑی مولانا حلیم اللہ قاسمی سے دفتر جمعیۃ علماء میںملاقات کرکے ان سے قانونی مدد طلب کی تھی جس کے بعد گلزار اعظمی نے و کلاء افروز صدیقی ، شریف شیخ، متین شیخ، فرزانہ ساونت،رازق شیخ، انصار تنبولی ، شاہد ندیم ، عادل شیخ و دیگر ذمہ داری سونپی تھی کہ وہ ممبئی ہائی کورٹ میں یونانی ڈاکٹروں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف پٹیشن داخل کریں ۔خیال رہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے آیوش بھارت یوجنا کے تحت سرکاری اسپتال اورہیلتھ سینٹر وں میں بھرتی کے لیئے پورے ملک میں دیڑھ لاکھ ڈاکٹروںکی تقرری کا فیصلہ کیاہے اور مہاراشٹر میں12415 ڈاکٹروں کی تقرری کے لیئے اقدامات شروع کیئے ہیں۔ یونانی ڈاکٹروں کو ممبئی ہائی کورٹ کی جانب سے راحت ملنے پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے وکلاء کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ان کی انتھک محنت اورکوششوں سے یونانی ڈاکٹروں کو بھی ان کا حق حاصل ہوا۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ ایک ہفتہ سے ہائی کورٹ میں روزانہ سماعت ہوئی اور وکلاء نے ہائی کورٹ کے ہر سوال کا تشفی بخش جواب دیا جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے ورنہ سرکاری وکیل نے عدالت کو گمراہ کرنے کی بہت کوشش کی تھی۔گلزار اعظمی نے یونانی ڈاکٹروں سے اپیل کی ہیکہ وہ حکومت ہند کی اس اسکیم سے فائدہ اٹھاہیں اور زیادہ سے زیادہ ڈاکٹروں کو ٹریننگ کے لیئے اپنے آپ کو پیش کرنا چاہئے کیونکہ اب ممبئی ہائی کورٹ نے ان کی تقرری میں بننے والی رکاو ٹ کو ختم کردیا ہے۔