دنیا بھر سے

چین سے تجارت پر قومی سلامتی کا عذر پیش نہ کیا جائے: صدر ٹرمپ

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 20-Feb-2020

واشنگٹن،امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ قومی سلامتی کے پیشِ نظر امریکہ چین کو جیٹ طیاروں کے انجن سمیت دیگر پرزہ جات فروخت نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنی حکومت کو ہدایت دے چکے ہیں کہ قومی سلامتی کا معاملہ ان پر لاگو نہ کریں۔منگل کو متعدد ٹوئٹس اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی مصنوعات کو غیر ملکی ممالک کو فروخت کرنے کے لیے قومی سلامتی کے خدشات کو عذر کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے۔ اس عمل سے ممالک کو امریکی مصنوعات خریدنے میں مشکل پیش آتی ہے۔صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ امریکی حکومت نے چین کو مسافر طیاروں کے مزید انجن فروخت کرنے سے مقامی کمپنی جنرل الیکٹرک کارپوریشن کو روکنے پر غور شروع کر دیا ہے۔منگل کو اس پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ قومی سلامتی کے خدشات پر اقتصادی فوائد کو ترجیح دیں گے۔انہوں نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ کاروبار کے لیے امریکہ کے دروازے کھلے ہیں۔امریکہ نے حال ہی قومی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر مقامی کمپنیوں پر پابندی عائد کی تھی کہ وہ دنیا کی بڑی کمپنیوں میں شمار کی جانے والی چین کی ٹیلی کمیونی کیشن کے آلات بنانے والی کمپنی ‘ہواوے ٹیکنالوجی’ سے لین دین نہیں کر سکتیں۔ صدر ٹرمپ کا حالیہ بیان ان کی حکومت کی اپنی ہی پالیسی کے برخلاف ہے۔منگل کو کیلی فورنیا روانگی سے قبل جوائنٹ بیس اینڈریوز پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ “قومی سلامتی کی جعلی اصطلاح استعمال کر کے ہم اپنی کمپنیوں کو قربان نہیں ہونے دیں گے۔ یہ حقیقی قومی سلامتی ہے اور میرے خیال میں لوگ اس کے ساتھ ہیں۔”صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مقامی کمپنیوں کو کاروبار کی اجازت دینی چاہیے۔ ان کے بقول چپ میکرز اور جو دیگر چیزیں انہیں بتائی گئی ہیں اس کا قومی سلامتی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس کی تفصیل کا ذکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے سوال کیا کہ اگر ہم چین کو چپ میکر دے دیں تو کیا ہوگا؟ اس کا خود ہی جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین وہ چپس یا تو اپنے ملک میں بنائے گا یا دیگر ملکوں میں۔ اس سے کیا ہو گا؟صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی ساخت جیٹ انجن دنیا کے بہترین انجن ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ چین انہیں خریدے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ امریکہ کے ساتھ کاروبار کو مشکل بنانا نہیں چاہتے۔

About the author

Taasir Newspaper