ریاست

ہمارا نعرہ اور محبت صرف ہندوستان ہے: شکیل معین

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 14-Feb-2020

بتیا،(انیس الوریٰ)، بتیا شہر کے راج کمپاؤنڈ محلہ چھاونی میں دیگر ملکی احتجاج کی طرح یہاں بھی مسلسل احتجاج جاری ہے۔ اس احتجاج کے اہم مقرر مشہور شاعر شکیل معین نے اپنے خصوصی انداز شاعرانہ کے حوالے عوام کے حوصلے کو سراہتے ہوئے خطاب میں سنجیدگی سے کام لینے کی اپیل کی۔ دہلی کے انتخاب کا حوالہ دیتے ہوئے بتایاکہ ستم کرکے بھی پچھتاوا نہیں ہے۔ ذرا بھی دل میں شرم آتانہیں ہے۔ جانجا شعروں کے حوالہ خطاب کرتے ہوئے بتایاکہ ہمارے ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو کوئی کبھی بانٹ نہیں سکتا۔ ہاں بارہااس کی کوشش جس نے کی وہ ہمیشہ مار کھاتے رہے۔ اس احتجاج میں پورے ملک میں جتنا ترنگا لہراتا نظر آرہاہے اتنا شاید قومی تہواروں کے دن بھی نہیں لہرائے جاتے۔ یہ ہماری محبت اور لگاؤ ہے۔ پورے ملک میں بیک وقت احتجاج جاری ہے۔ یہ گنگا جمنی تہذیب کی مثال ہے۔ ان کے بعد مولانا نجم الدین قاسمی اپنی تقریر اور دواشعار کے حوالہ سے عوام کو مسحور کرڈالا۔ کوئی مغرور ہوجائے یہ کب اس کو گورا ہے۔ تکبر کی بلندی سے بھی ذلت سے اتارا ہے۔ جو چھپن انچ کا سینہ بتاتاتھا زمانے کو خداکا قہر تو دیکھو اسے جھاڑو نے مارا ہے۔ سنیل کمار یادو مالے لیڈر نے بتایاکہ ماب لنچنگ کے لوگ آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔ بھاجپا کے ظالم کارکنوں کو جیل سے آنے پر گلے میں ہار پہنارہے ہیں۔ اس ملک کو آزاد کرانے میں لاکھوں شہید ہوئے اور بڑی مشکل سے اپنا آئین بنا یاگیا۔ اسے ایک دن میںتوڑ کر یہ نیا قانون لادیاہے۔ اس سرکار نے یہ لوگ اپنی بات تھوپ رہے ہیں۔ ہماری محبت اور یکتا کو توڑ کر ہندواور مسلمانوں میں بانٹنا چاہتے ہیں۔ ملک کو ایک زبان ہندی اور ایک مذہب ہندو بنانے کا عزم رکھتے ہیں۔ یہ ملک میں ناممکن ہے۔ ہماری خواتین نے فوزیہ رحمان صدیقی، صابرین خاتون ، نکہت پروین وغیرہ نے بھی اس سیاہ قانون کو براہ راست نشانا بنایا اور کہا اسے جلد واپس لے سرکار۔اجلاس کی صدارت مولانا حسن معاویہ ، نظامت مولانا عامر عرفات نے کیا۔

About the author

Taasir Newspaper