ہٹلر اور اسٹالن کے بعد مودی پہلا آدمی جو ملک کو بانٹنے کا خیال رکھتا ہے: پپو یادو

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 12-Feb-2020

دربھنگہ (محمد شاداب انجم ) آزادی کے بعد پہلی بار دہلی میں ترقی کی بنیاد پر انتخاب میں لوگوں نے ووٹ کیا ورنہ اس سے پہلے صرف جذبات کی بنیاد پر ووٹ ڈالا جاتا تھا – ہٹلر اور اسٹالن کے بعد مودی پہلا آدمی جو ملک کو بانٹنے کا خیال رکھتا ہے اس نے ملک میں نفرت، خوف، عدم رواداری اور دیگر فقدان کو ہی پروان چڑھایا گذشتہ 6 سالوں میں ایک بار بھی انسانیت کی بات نہیں کی مذکورہ باتیں سابق سانسد اور جن ادھیکار پارٹی کے قومی صدر پپو یادو نے کیوٹی بلاک حلقہ کے ریام چینی مل احاطہ میں منعقد سیاہ قانون کے خلاف اجلاس میں کہی انہوں نے آگے کہا کہ ملک میں ایسے قانون کو نافذ کیا جا رہا ہے جس کی مخالفت کچھ ملکوں کو چھوڑ کر پوری دنیا کر رہی ہے اس ضمن میں مارٹن لوتھر کے ایک اقتباس کو نقل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو ملک اقتدار کے حصول کے لئے ذات اور مذہب کو مضبوط کیا جاتا ہو وہ ملک ڈوب جاتا ہے انہوں نے ملک میں پھیلی بد امنی کے لئے مودی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ جے این یو، جامعہ اور اے ایم یو میں درجنوں بار حملہ کرایا گیا کیا وہاں صرف مسلمانوں کے بچے ہی تعلیم حاصل کر رہے ہیں وہ صرف ڈر کا ماحول قائم کر رہے ہیں تاکہ خلاف میں کوئی آواز بلند نہ کر سکے جناب پپو یادو نے طنزیہ لہجے میں پوچھا کہ کیا گاندھی کا چشمہ بیت-الخلا کے اشتہار کے لئے استعمال ہوگا اور پٹیل کی چھ ہزار کڑوڑ کی لاگت سے تعمیر مجسمہ پٹیل کے فکر کو پاؤں کے نیچے روندتا ہے حب الوطنی کے بارے میں کہا کہ آر ایس ایس انگریزوں کے دلال تھے ان کے دفتر پر ترنگا لہرانے کے لئے ہائی کورٹ کو حکم صادر کرنا پڑا – این آر سی، این پی آر کے تعلق سے انہوں نے پوچھا کہ جس ملک کی بیس کڑوڑ عوام خانہ بدوش ہے آٹھ کڑوڑ ایس سی ایس ٹی ہے جہاں 63 فی صد خواتین ناخواندہ ہے ویسے ملک میں کہاں سے ان کو دستاویزات پیش کریں گے انہوں نے لوگوں سے سوالیہ لہجے میں کہا کہ جب آپ سے کوئی شہریت سے متعلق دستاویز مانگے تو کہہ دینا کہ میرے پاس کوئی کاغذ نہیں ہے – جلسہ میں کثیر تعداد میں خواتین کی حصہ داری رہی فاطمہ شیخ نے قومی ترانہ جن گن من سے اجلاس کا آغاز کیا صدارت عامر سہیل نرالے نے کیا جبکہ نظامت امتیاز عرف بھولا نے ادا کیا دیگر مقررین میں سمیع اللہ خان عرف شمیم، رام نریش یادو، دھنیشور مہتو ،محمد جاوید، شاداب انجم کے علاوہ وہاں موجود معزز افراد میں افتخار احمد عرف چھوٹن، محمد رضوان، ظفر علی انجم، ڈاکٹر عبدالسلام خان عرف منا خان، محمد شاہین، متھلیش جی، پپو پاسوان، مولانا عبدالناصر سبیلی، محمد عبداللہ عرف لال بابو، پرویز عالم وغیرہم کے نام قابل ذکر ہیں ۔