سی اے اے شہریت چھیننے والا قانون:شویتا کھنّہ

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 02-March-2020

نواد ہ (پی آر ) ضلع نوادہ کے تحت پکری برانواں بلاک کے گلزارباغ میں آج38 ویں دن کے دھرنا مظاہرہ پر حاضری ہوئی، جبکہ نوادہ کے بنڈلہ باغ کے دھرنے پر بھی حاضری ہوئی،بنڈلہ باغ کا آج 51 دن ہے، دونوں دھرنا مظاہرے میںشویتا کھنہ جو اے ایم یو میں وکالت کر رہی ہیں، پکری برانواں کے سیکڑوں نوجوان ڈومراواں پیٹرول پمپ پر ان کے استقبال کے لئے گئے اور ان کی آمد کا خیرمقدم کیا۔ اور ایک بہت بڑا قافلہ بن گیا، پھر ان کو پٹرول پمپ سے لیکر نہایت ہی عزت و احترام کے ساتھ دھرنے کے مقام پر لایا گیا،شویتا کھنہ این آر سی، این پی آر اور سی اے اے کے خلاف بہت ہی زوردار طریقے سے اپنی باتیں رکھتی ہیں، اسی تسلسل کے ساتھ پکری برانواں میں تشریف لائیں، یہ دہلی سے نوادہ کے راستے آئے پکری براوان کے گلزارباغ دھرنے کا 38 واں دن پر آئیں، یہ دھرنا انقلابی فکری گروپ کے ماتحت ہے۔ جس کے ڈائریکٹر مولانا آزاد ہیں۔ آج کے اسٹیج ڈائریکٹر محمد شاداب خان تھے۔ شویتا کھنہ کا بہت ہی نئے انداز میں استقبال کیا گیا، اور انہیں اسٹیج پر بلایا ، آج ہزاروں خواتین ، مرد ، جوان ، موجود تھے، شیوتا کھنہ نے کہا کہ شہریت ترمیم کوئی قانون نہیں ہے، بلکہ لوگوں میں نفرت پھیلانا والا قانون ہے،شہریت دینے والا قانون نہیں ہے، بلکہ شہریت چھیننے والا قانون ہے۔ اس طرح کا قانون 1905 میں لایا گیا تھا، جو شہریت قانون آگے نہیں چل سکا،لوگوں کو پہلے بھی شہریت دی گئی ہے،یہ کوئی نیا قانون نہیں،یہ گندے کرونولوجی والا قانون امیت شاہ کی اپنی گندی سوچ ہے، اس سے پہلے بڑے بڑے صنعتکار ، جو اس ملک میں آئے ان کو شہریت دی گئی، اس سے ملک کو بڑا فائدہ بھی ہوا، لیکن یہ قانون ان مہاجرین کو شہریت دے گا ، جو بنگلہ دیش ، سری لنکا سے آئیں گے، اس ملک میں ایسے لوگوں کو ملازمت ، زمین ، کہاں سے دی جائے گی؟ جب کہ ہندوستان کی معاشی صورتحال انتہائی قابل رحم ہے۔بھارت اور پیچھے کی طرف چلا جائے گا، شیوتا کھنہ نے مزید کہا کہ مجھے آر ایس ایس کے گنڈے ، بی جے پی کے گنڈے ، مسلمان کہتے ہیں،جبکہ میں مسلمان نہیں ہوں،میرے پاس حق بولنے کی طاقت ہے۔ میں ہمیشہ حق بات کہتی ہوں، اگر میں سر کے اوپر دوپٹہ رکھوں تو مسلمان ہو گئی؟ اور اگر میں دوپٹہ کو اپنے گردن میں لٹکا لوں تو میں ہندو ہوگئی؟ اگر میں اس سکارف کو گلے میں لٹکا دوں تو میں ہندو ہو گئی، ایسا نہیں ہے میں تمام مذاہب کا احترام کرتا ہوں ، ہر مذہب کو عزت دی جانی چاہئے ، اس ملک میں ہندوؤں کا حق جتنا ہے اس سے زیادہ مسلمانوں کا حق ہے۔ مسلمانوں کی قربانیوں کو بھولا نہیں جا سکتا، انہوں نے ایک طویل جنگ کی لڑائی لڑی ہے،اور اس کے بعد یہاں سے انگریزوں کو مار بھگایا ہے، ہم ایسے ہندوستانیوں کے انصاف کے لئے ہمیشہ کھڑی رہونگی، جو آج مسلمانوں کو نشانہ بناکر بھارت سے در بدر کرنا چاہتے ہیں، جس کی بے بسی سننے کو کوئی تیار نہیں، یہ آر ایس ایس اور بھگوا لوگ بہت سوتیلا رویّہ کر رہی ہے مسلمانوں کے ساتھ جو اب ہم ہونے بھی دینگے، تم نے دہلی کو آگ لگا دی ہے، یہ آر ایس ایس قوم کے بھارت کے لئے نقصان دہ ہے ، یہ سب باتیں شيوتا کھنہ پکری برانواں منچ سے کہی، شویتا کھنہ نے یہاں کی خواتین کی بہت حوصلہ افزائی کی ، اور اس طرح کہا کہ دھرنے میں اپنا حصہ دیتے رہیں ، ہمت نہ ہاریں۔ شویتا کھنہ ایک معروف طالب علم ہیں،وہ وکالت کررہی ہیں۔ اور ان کی آواز مودی کے کانوں کو لمبے عرصے سے پھاڑ رہی ہے۔ اس موقع پر ہزاروں خواتین ، نوجوان اور مرد شریک ہوئے۔