فریقین لوک عدالتوںسے فیض اٹھائیں:سرویش کمار

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 12-March-2020

سہارنپور :(احمد رضا) مقامی سول کورٹ میں گزشتہ ماہ لوک عدالت کا جس شاندار طریقہ سے انعقاد ہوا اور وہاں جس تیزی کیساتھ چند گھنٹوں میں ہی ہزاروں مقد مات کا تصفیہ بہ آسانی فریقین کی آپسی صلح صفائی کے ذریعہانجام کو پہنچا وہ اپنے آپ میں بڑی کامیابی ہے اسلئے ہمارے جج چاہتے ہیں کہ عدالتوں میں مقدمات کے بڑھتے بوجھ کو کم کرنیکے لئے زیادہ سے زیادہ مقد مات کو لوک عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ مقد مات کا بہ آسانی سہل تصفیہ ہوسکے! لوک عدالت کے موقع پر ہمارے ضلع کے قابل احترام ضلع ججسرویش کمارنے وکلاء کو خطاب کرتے ہوئے بیباک لہجہ میں فرمایا کہ مرکزی حکومت اور قابل احترام چیف جسٹس آف انڈیا کی یہ دلی خواہش کے ملک کی ہزاروںعدالتوں میں زیرالتوا ء لاکھوں مقدمات کا نپٹارہ ۳سے ۵ سال کی مدت کے عرصہ میں ہر حالت میں ہوجاناچاہئے تاکہ عام آدمی کو کم وقت میں سہل اور بہتر قابل قبول انصاف حاصل ہوسکے قابل ضلع جج سرویش کمارنے کہاکہ ہمارے ملک کے قابل احترام چیف جسٹس آف انڈیا کی ہدایت پر ہی۱۴ ستمبر کوپورے ملک میں ایک ساتھ لوک عدالتوں کا بڑے پیمانہ پر انعقاد کیا جارہاہے جس میں ایک ہی چھت کے نیچے ایک ہی دن میں ملک بھر کی ضلعوار ہزاروں عدالتوں میں لاکھوں مقدمات کا نپتارہ کیا جارہاہے جو ہم سب کے لئے باعث فخر عملی کام ہے سرکار بھی چاہتی ہے کہ ملک کی سبھی عدالتوں سے مقدمات کے بڑھتے بوجھ کو کم کیاجائے تاکہ مجبور اور پریشان لوگ جلد از جلد بہت کم صرفہ پر انصاف حاصل کرسکیں ضلع بار ایسوسی ایشن کمیٹی اور تقریب میں موجود جج اور وکلاء صاحبان کو خطاب کرتے ہوئے سبھی معزز وکلاء سے اپیل کی کہ توجہ کے ساتھ مقدمات سے جڑے ہر ایک پیروکار کو ترجیحی طور پر لوک عدالتوں کے ذریعہ مقدمات کے نپٹارہ سے متعلق ہر حالت میں کم سے کم وقت میں انصاف مہیا کرانے کی ہر ممکن کوشش کریں آج کے حالات میں بیحد ضروری ہیکہ ہم سبھی اپنی ذمہ داری بہتر طور سے اٹھائیںتاکہ عوام کو عدلیہ سے حسب منشاء کم وقت میں انصاف حاصل ہو سکے عوام کا اعتماد عدلیہ کے ساتھ ہمیشہ کی طرح مضبوطی سے جڑا رہے آپنے کہا کہ ہم نے اگر آج ہی سے اس عوامی فلاحی اور بہتری کے عمل کی شروعات کردی تویہ ملک، قوم اور عدلیہ کی شاندار تاریخ کے لئے سب سے بڑاکام ہوگا !قابل ضلع جج سرویش کمارنے کہاکہ ہماری عدالتیں چاہ کربھی مقدمات کانپٹارہ کم وقت پر نہی کر پاتی ہیں اسکی وجہ وکلا ء حضرات کی مشغولیت، روز روز کی ہڑتالیں اور عدالتوں میں مقدمات کا بڑھتا بوجھ ہے آپنے کہا کہ اب ہم سبھی کو اس کار خیر کے اعلیٰ مقصد کے حصول کے لئے سنجیدگی کامظاہرہ کرنا ہوگا آپنے کہا کہ انصاف کیلئے عدالتوں میں آنیوالے کمزور، پست ، لاغر،مظلوم اور تنگ حال عوام کے ساتھ تعاون کیا جانا آج ہم سب پرلازم ہے پست اور مجبور عوام ہی جلد انصاف کی امید لیکر ہمارے پاس آتے ہیں انکے سہی نظریات اور سہی سوچ پر کھرا اتر ناہی انصاف کی عمدہ دلیل ہے۔