کابل: تقریب پر حملے میں 27 افراد ہلاک، افغان چیف ایگزیکٹو محفوظ رہے

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 07-March-2020

کابل،افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک تقریب کے دوران فائرنگ اور راکٹ حملے کے نتیجے میں 27 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ تقریب میں ملک کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ بھی شریک تھے جو حملے میں محفوظ رہے۔وائس آف امریکہ کی افغان سروس کے مطابق جمعے کو کابل میں ہزارہ قبیلے کے رہنما عبد العلی مزاری کی برسی کی تقریب جاری تھی جس میں عبداللہ عبداللہ کے علاوہ سابق افغان صدر حامد کرزئی اور دیگر سیاسی رہنما بھی شریک تھے۔افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی کے مطابق تقریب کے قریب زیرِ تعمیر عمارت سے متعدد افراد نے فائرنگ کی جس کی زد میں آ کر درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ تاہم حملہ آوروں اور فورسز کے درمیان چار گھنٹے بعد بھی فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ترجمان کے مطابق فائرنگ کے بعد چیف ایگزیکٹو اور سابق صدر کو بحفاظت پنڈال سے نکال کر دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ عبداللہ عبداللہ افغانستان کے سابق وزیرِ خارجہ رہ چکے ہیں اور وہ 2014 سے ملک کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔افغان وزارتِ داخلہ اور وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ حملے میں 27 افراد ہلاک اور 55 زخمی ہوئے ہیں۔ حکام نے ہلاکتوں میں مزید خدشے کا بھی اظہار کیا ہے۔افغان صدر اشرف غنی نے فارسی زبان میں کیے گئے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ کابل کی تقریب پر ہونے والا حملہ انسانیت اور افغانستان کے قومی اتحاد کے خلاف ہے۔اْن کے بقول، انہوں نے عبداللہ عبداللہ اور پروفیسر خلیلی کو فون کر کے ان کی طبیعت دریافت کی ہے۔یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان 29 فروری کو ہونے والے امن معاہدے کے بعد یہ بڑا حملہ ہے۔ امن معاہدے کے بعد طالبان نے افغان سیکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیاں شروع کر دی تھیں۔تاہم جمعے کو ہونے والی دہشت گردی کی اس کارروائی پر طالبان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ حملے میں ملوث نہیں ہیں۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے چند روز قبل کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ امن معاہدے کے تحت وہ غیر ملکی افواج کو نشانہ نہیں بنائیں گے البتہ افغان سیکیورٹی فورسز کے خلاف اْن کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔افغانستان میں موجود امریکی فورسز نے بھی چار مارچ کو صوبہ ہلمند میں فضائی کارروائی کے دوران طالبان کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا تھا۔امریکی فوج کے ترجمان کرنل سونی لیگیٹ نے اس کارروائی کو دفاع میں کیا گیا حملہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد طالبان کو افغان فورسز پر حملے سے روکنا ہے۔