امریکی سائنسدانوں کا دعویٰ

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 03-April-2020

 کوروناوائرس کے انفیکشن سے لڑنے کے لیے دوا اور ویکسین تیار کرنے کے لیےکئی ممالک کے سائنسداں اور ڈاکٹرس لگاتار کوششیں کر رہے ہیں۔ اس درمیان امریکی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ایک ایسا ویکسین تیار کرلیا ہے جس سے کورونا وائرس کے انفیکشن کو مضبوطی کے ساتھ روکا جا سکے۔یونیورسٹی آف پٹس برگ اسکول آف میڈیسن کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ باقی ممالک کے مقابلے میں انھوں نے بہت جلد کووڈ-19 یعنی کورونا وائرس کی ویکسین تیار کر لی ہے۔ خبروں کے مطابق اس یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے جو ویکسین تیار کی ہے اس کے لیے انھوں نے سارس (ایس اے آر ایس) اور مرس (ایم ای آر ایس) کے کوروناوائرس کو بنیاد بنایا تھا۔ پٹس برگ اسکول آف میڈیسن کے ایسو سی ایٹ پروفیسر آندریا گمبوٹو نے اس سلسلے میں بتایا کہ “یہ دونوں سارس اور مرس کے وائرس نئے والے کورونا وائرس یعنی کووڈ-19 سے بہت حد تک یکسانیت رکھتے ہیں۔ اس سے ہمیں یہ سبق حاصل ہوا کہ ان تینوں کے اسپائک پروٹین (وائرس کی باہری سطح) کو توڑنا بے حد ضروری ہے تاکہ انسانوں کو اس وائرس سے آزادی مل سکے۔پروفیسر آندریا گمبوٹو کا کہنا ہے کہ ہم نے یہ پتہ کر لیا ہے کہ وائرس کوکس طرح مارنا ہے، اسے کس طرح شکست دینا ہے۔ ہم نے اپنی ویکسین کو چوہے پرآزما کر بھی دیکھ لیا ہے اور اس کے نتائج انتہائی خوش انگیز ثابت ہوئے۔آندریا مزید کہتی ہیں کہ تیار کردہ ویکسین کا نام ہم نے ‘پٹ گو ویک رکھاہے۔ اس ویکسین کے اثر کی وجہ سے چوہے کے جسم میں ایسے اینٹی باڈیز پیداہو گئے جو کورونا وائرس کو روکنے میں کارگر ہیں۔ آندریا آگے کہتی ہیں کہ”کووڈ-19 کو روکنے کے لیے جتنے اینٹی باڈیز کی ضرورت جسم میں چاہیے، اتنی پٹ گو ویک ویکسین پوری کر رہا ہے۔ ہم بہت جلد اس کا تجربہ انسانوں پرشروع کریں گے۔اس درمیان خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ کووڈ-19 کو شکست دینے کے لیےہندوستانی سائنسداں ‘کورونا وائرس کو اپنے طور پر پیدا کرنے کی کوشش میںلگے ہوئے ہیں۔دراصل ہندوستانی سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ جب تک کورونا وائرس کو بنانہیں لیا جاتا، اس وقت تک اس وائرس کا علاج تلاش کرنا کافی مشکل امر ہے۔اس لیے کئی سائنسداں کورونا وائرس کو پیدا کرنے کے لیے جی توڑ محنت کررہے ہیں۔ حیدر آباد واقع سنٹر فار سیلولر اینڈ مالیکولر بایولوجی (سی سی ایم بی) کے سائنسداں اپنی تجربہ گاہوں میں بڑی تعداد میں کورونا وائرس پیدا کر رہے ہیں تاکہ اس وائرس کے جینیاتی ڈھانچے کو سمجھا جا سکے جوکووڈ-19 کی دوا اور ٹیکہ تیار کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔سی سی ایم بی کے ڈائریکٹر راکیش مشرا نے اس عالمی وبا کے بڑھنے کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خطرناک کورونا وائرس کے خاتمہ کی ترکیب تلاش کرنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ اس لیے ابھی ایک دوسرے سے سماجی دوری بنائےرکھنا اور صفائی کو اختیار کرنا ہی واحد طریقہ ہے۔
ڈاکٹر محمد گوہر
چیف ایڈیٹر، روزنامہ تاثیر