تبلیغی جماعت کو انصاف پسند شہریوں کی حمایت: پروفیسر شکیل قاسمی

تبلیغی جماعت نے کبھی قومی،ملکی مفاد کے خلاف کوئی کام نہیں کیا۔ ہمیشہ اخلاقی بلندی، شریفانہ طور طریقے کا کام اور امن و شانتی کی دعا کرتی رہی۔ ایک تحقیقی ایجنسی نے کچھ عرصہ قبل ان کے کاموں کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ”اس جماعت سے کسی قسم کے نقصان کا امکان نہیں ہے، اچھا انسان بنانے کے ساتھ مرنے کے بعد کیا ہوگا کے موضوعات ان کے زیر بحث ہوتے ہیں اور اسی پر غور و فکر کرتے ہیں۔“ ملک کے عوام و خواص نے ہمیشہ ان سے دعائیں لی ہیں اور ان کی کارکردگی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان دنوں جب تبلیغی جماعت مرکز نظام الدین دہلی کو بلاوجہ موضوع بنایا جا رہا ہے تو ہر طرف سے انصاف پسند شہری قابل اعتماد تبلیغی جماعت کی حمایت میں بیان دے کر بدنام کئے جانے کی مذمت کر رہے ہیں۔ ملک کی بڑی تنظیموں، با وقار شخصیتوں اور ذمہ دار شہریوں نے پوری قوت کے ساتھ بدنام کئے جانے کے عمل کی مذمت کی ہے جو خوش آئند ہے۔ فاران انٹرنیشنل فاؤنڈیشن انڈیا کے چیرمین پروفیسر مولانا شکیل احمد قاسمی پٹنہ نے اپنی پریس ریلیز میں مذکورہ خیالات کا اظہار کیا۔

جناب قاسمی نے مزید کہا کہ یہ وقت قومی اتحاد کے جذبے کے ساتھ درپیش مسائل کے حل،احتیاط، حفاظت اور نجات کا ہے۔ وزارت صحت حکومت ہند کے ذمہ دار افسر نے بہت مناسب انداز میں اپنے ذمہ دارانہ بیان میں کہا کہ ”یہ وقت کسی کی خرابی تلاش کرنے کا نہیں ہے، درپیش مسئلے کے حل کا ہے۔“ تبلیغی جماعت کے ذمہ دار نے بھی اپنے بیان میں جماعت والوں کو ہدایت دی ہے کہ مرکزی حکومت کے قانون اور ڈاکٹروں کے مشوروں پر عمل کیا جائے۔ اس طرح ان حضرات کا پورا تعاون حکومت اور انتظامیہ کے ساتھ ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ بدنام کئے جانے کی سازش کے خلاف قانونی کاروائی کرے۔مذہبی، تعلیمی، فلاحی اور سماجی اداروں نے حکومت کے اعلان پر کرونا وائرس سے احتیاط کی اس مہم میں جس طرح ملک کا ساتھ دیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ مزید احتیاط اور بیداری کی ضرورت ہے۔