تنگ نظر میڈیا …….

ایڈیٹر کے قلم سے۔  Apr 20, 2020

ساری دنیا میں کورونا وائرس نے کہرام مچایا ہوا ہے ہندوستان بھی اس سے متاثر ہے، ایسے وقت میںفرقہ پرستی کا کھیل کھیلنا یا اس کی حوصلہ افزائی کرنا ملک کے مفاد میں نہیں  بلکہ  ملک دشمنی ہے۔ ہندوستان نے سبھی مذاہب کے ماننے والوں اور سبھی ذات پات سے تعلق رکھنے والوں کے تعاون کے نتیجہ میں ہی لاک ڈاون کو کامیاب کیا ہے۔ عوام کے تعاون کی وجہ سے ہی کورونا کی وباء کو شدت کے ساتھ پھیلنے سے روکنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اگر اس موقع پر بھی ہندو مسلم کا راگ الاپتے ہوئے ملک کی فضا کو درہم برہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کے لئے یقینی طور پر زرخرید میڈیا اورانتہا پسند افراد ہی ذمہ دار ہوں گے اور جو لوگ بے لگام زہر افشانی کر رہے ہیں وہ بھی اپنی ذمہ داری سے بری قرار نہیں دیئے جاسکتے۔
عالمی وبا کے دوران عام لوگوں کے مسائل سے چشم پوشی کرکے تنگ نظر میڈیا نے جو رویہ اختیار کر رکھا ہے وہ ہرگز ایک جمہوری ملک کے حق میں نہیں ہے۔ اس میڈیا کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ لاک ڈاؤن کے سبب ملک کی معیشت کس حد تک تباہ ہو رہی ہے اور عام لوگ کس طرح فاقہ کشی پرمجبور ہو رہے ہیں۔ ویسے تو ساری دنیا میں معاشی انحطاط کی بات ہو رہی ہے لیکن ہندوستان کے زیادہ متاثر ہونے کے اندیشوں کو بھی بے بنیاد نہیں کہا جاسکتا۔ مختلف گوشوں سے ملک کی معیشت کے تعلق سے اندیشے ظاہر کیے جا رہے ہیں۔  ایسی حالت میں معاشی سرگرمیوں کے لئے مخصوص منصوبہ بندی ضروری ہے۔ مزدوروں کی حالت سب سے زیادہ خراب ہے۔ بیشتر مزدور ایسے ہیں جو اپنی ریاست اور اپنے شہر سے دور ہیں۔ وہ روزگار کی تلاش میں شہر اور ریاست سے دور آئے تھے تاکہ اپنے لئے اور اپنے افراد خاندان کے لیے روٹی حاصل کرسکیں لیکن ایسا نہیں ہو پا رہا ہے۔ تارکین وطن جو مزدور ہیں انہیں سب سے زیادہ پریشانی ہو رہی ہے اور ان میں تعمیراتی مزدوروں کی بھی اکثریت ہے۔ تعمیرات کو سارے ملک میں بند کردیا گیا ہے،  ایسے میں یہ مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں۔ ان کے لئے حکومتوں کی جانب سے راحت اور مختلف امدادی پیکیج کا اعلان تو کیا گیا ہے لیکن بیشتر  مزدوروں تک کوئی راحت نہیں پہنچ پائی ہے۔
ترقی یافتہ ملکوں میں فاقہ کشی یا بھوک سے اموات کم ہوتی ہیں لیکن وبا نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا ہے۔ ان ملکوں میں جہاں غربت ہے یا ایسے ممالک جو ترقی پذیر کہلاتے ہیں جیسے ہندوستان میں وبا کا سب سے زیادہ برا اثر ملک کے غریب عوام پر ہوتا ہے۔  ہندوستان کی طرح کئی ملکوں کو کورونا وائرس کے بعد لاک ڈاؤن کی وجہ سے پیدا ہونے والے بھوک کے مسائل سے بھی نمٹنا ہے۔ ہندوستان کو ایک طرف کورونا وائرس کی روک تھام کو یقینی بنانا ہے تو اس کے ساتھ معیشت کی تباہی سے بھی نمٹنا ہے۔

ڈکٹر محمد گوہر
چیف ایڈیٹر، روزنامہ تا ثیر