مصروف کیلنڈر میں آگے کیسے ممکن ہو پائے گا آئی پی ایل

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 02-April-2020

نئی دہلی،(یو این آئی ) عالمی وبا بن چکے کورونا وائرس اور ملک بھر میں نافذ لاک ڈاؤن کی وجہ سے انڈین پریمیئر لیگ آئی پی ایل کا 13 واں ورژن 15 اپریل تک ملتوی ہو چکا ہے اور اس وقت جیسے حالات ہیں اسے دیکھتے ہوئے اس وقت کو آگے بھی كھسكايا جا سکتا ہے۔دنیا بھر میں کورونا کے سبب جیسے حالات ہیں اس کے پیش نظر سات ہفتے کے اس ٹی -20 ٹورنامنٹ کو پورے طرز میں آگے کرا پانا بہت مشکل ہوگا کیونکہ بین الاقوامی کیلنڈر بہت مصروف ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں کرکٹ سرگرمیاں ٹھپ پڑی ہوئی ہیں اور جب بین الاقوامی کیلنڈر دوبارہ شروع کریں گے تو بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور ممالک کی پہلے سے طے بین الاقوامی میچوں کو پورا کرنے کی ہوگی۔ہندستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کو اس مصروف کیلنڈر میں جگہ حاصل کرنے کے لئے یا تو آئی سی سی سے درخواست کرنا پڑے گی یا پھر ٹورنامنٹ کے سائز کو چھوٹا کرنا ہوگا۔ بی سی سی آئی کے صدر سورو گنگولی اشارہ دے چکے ہیں کہ اس بار آئی پی ایل چھوٹا ہو سکتا ہے جبکہ آئی پی ایل فرنچائز راجستھان رائلس کے مالک منوج بدالے کا بھی خیال ہے کہ اس بار ٹورنامنٹ چھوٹے سائز میں ہو سکتا ہے۔آئی پی ایل کو 29 مارچ سے شروع ہونا تھا لیکن کورونا وائرس کے خطرے کو دیکھتے ہوئے اسے 15 اپریل تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔ ہندستان میں اس وقت 21 دن کا لاک ڈاؤن لگا ہے جو 14 اپریل تک ختم ہو جائے گا۔ اس دوران کوئی غیر ملکی کھلاڑی ہندستان نہیں آ سکتا ہے اور ہندستانی کھلاڑی بھی ملک میں کہیں کا سفر نہیں کر سکتے ہیں۔آئی پی ایل کے 15 اپریل کے بعد ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں اور بی سی سی آئی کو اسے آگے کی مدت کے لئے ملتوی کرنا پڑ سکتا ہے۔ لیکن آگے آئی پی ایل کے لئے وقت نکلنا ٹیڑھی کھیر ثابت ہوگا۔ بی سی سی آئی اسے جون کے پہلے ہفتے تک کھیںچ سکتا ہے تاکہ اسے پورے طرز میں کرایا جا سکے لیکن اس کے لئے اسے سرکاری منظوری کی ضرورت ہو گی اور یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ حالات مکمل طور معمول پر آجائیں۔کورونا کے سبب آئی سی سی کی ٹیسٹ چمپئن شپ کی تمام سیریز ملتوی پڑی ہوئی ہیں۔ ٹیسٹ چمپئن شپ جولائی 2019 میں شروع ہوئی تھی اور اس کا فائنل جون 2021 میں انگلینڈ کے لارڈز کے میدان پر ہونا ہے۔ چمپئن شپ کی سیریز کے لیے مارچ 2021 تک مکمل ہونا ہے اور ٹیبل میں دو سرفہرست ٹیمیں فائنل میں نبرد آزما ہوں گي۔ہر سیریز میں زیادہ سے زیادہ 120 پوائنٹس داؤ پر ہیں اور نو ٹیموں کو چھ سیریز (تین گھر پر اور تین بیرون ملک) کھیلنی ہیں۔ کچھ ٹیمیں کئی سیریز کھیل چکی ہیں جبکہ کچھ ٹیموں نے آغاز کرنا ہے۔ کئی سیریز اس سال آگے ہونی ہیں۔مارچ میں سری لنکا اور انگلینڈ کو دو ٹیسٹ کھیلنے تھے۔ جون میں انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کو تین ٹیسٹ، جولائی اگست میں انگلینڈ اور پاکستان کو تین ٹیسٹ، جولائی میں ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ کو دو ٹیسٹ، جولائی میں بنگلہ دیش اور سری لنکا کو تین ٹیسٹ، اگست میں بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کو دو ٹیسٹ، نومبر-دسمبر میں نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز کو تین ٹیسٹ، دسمبر-جنوری میں ہندستان اور آسٹریلیا کو چار ٹیسٹ اور دسمبر-جنوری میں نيوزی لینڈ اور پاکستان کو دو ٹیسٹ کھیلنے ہیں۔آئی پی ایل میں آسٹریلیا، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز، جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ اور سری لنکا کے کھلاڑیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ پاکستان کے کھلاڑی آئی پی ایل میں کھیلنے نہیں آتے جبکہ بنگلہ دیش کے چنيدہ کھلاڑی آئی پی ایل میں کھیلتے ہیں ۔انگلینڈ میں دی هنڈریڈ ٹورنامنٹ 17 جولائی سے 15 اگست تک کھیلا جائے گا جس میں ہر اننگز میں 100 گیند پھینکی جائیں گی۔ اس کا میچ تقریبا تین گھنٹے میں مکمل ہو گا۔ اس سال کا چھ ٹیموں کا ایشیا کپ ستمبر میں مقرر کیا گیا ہے اور اکتوبر میں ہونے والے ٹی -20 ورلڈ کپ کو دیکھتے ہوئے یہ ٹی -20 فارمیٹ میں کھیلا جائےگا۔ ٹی -20 ورلڈ کپ 18 اکتوبر سے 15 نومبر تک آسٹریلیا میں کھیلا جائے گا جس میں 16 ٹیمیں حصہ لیں گی۔ایسے مصروف کیلنڈر میں آئی پی ایل کے لئے جگہ نکال پانا کافی مشکل کام ہوگا۔ سب سے بڑا سوال تو غیر ملکی کھلاڑیوں کی دستیابی کے متعلق ہو گا ۔ فرنچائز ٹیمیں آئی پی ایل میں ہر حال میں غیر ملکی کھلاڑیوں کو چاہتی ہیں کیونکہ ان کے بغیر ٹورنامنٹ کا ساری دلکشی ختم ہو جائے گی۔راجستھان رائلس کے مالک منوج بدالے کا خیال ہے کہ یہ ٹورنامنٹ ہو سکتا ہے لیکن اس کا سائز چھوٹا ہو اور یہ سب کچھ بی سی سی آئی اور دیگر کرکٹ بورڈز کے درمیان تعاون پر انحصار کرے گا۔ برطانیہ میں رہنے والے بدالے نے کہاکہ میں چاہوں گا کہ اس سال کسی بھی شکل میں آئی پی ایل کا انعقاد ہو چاہے یہ صرف ہندستانی کھلاڑیوں کے درمیان ہی کیوں نہ کھیلا جائے، اگر غیر ملکی کھلاڑی اس بار نہیں آ پاتے ہیں۔ لیکن اب یہ کہہ پانا مشکل ہے کہ اس بار اس کا انعقاد ہو پاتا ہے یا نہیں۔ بی سی سی آئی اپنے سب سے بڑے ٹورنامنٹ کو لے کر تذبذب میں ہے۔ یہ مکمل ٹورنامنٹ ہوتا ہے یا چھوٹے سائز میں ہوتا ہے، غیر ملکی کھلاڑیوں کے ساتھ ہوتا ہے یا غیر ملکی کھلاڑیوں کے بغیر ہوتا ہے، یہ وقت بتائے گا۔