وز مرہ کی کمائی سے گھر چلانے والے مزدوروں کے یہاں فاقہ کشی کی نوبت

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 04-April-2020

سمستی پور(فیروز عالم) کورونا سے بچاؤ کو لیکر سرکار کے ذریعہ جاری لاک ڈاؤن سے کام نہیں ملنے سے ہزاروں روز مرہ کی کمائی سے گھر چلانے والے مزدوروں کے یہاں فاقہ کشی کی نوبت پیش آگئی ہے، وہ 2 وقت کی روٹی کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہے،تو کوئ آدھے پیٹ بھوکے سونے پر مجبور ہیں،حکومتی اعلان عمل میں آتے آتے مہینوں گزر جائےتو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ ایسی صورتحال میں عوام نے سکھ دکھ کے ساتھی عوامی نمائندوں جیسے ایم پی ، ایم ایل اے وغیرہ کو ووٹ دیکر انکا انتخاب کیا، لیکن مصیبت کی اس گھڑی میں مبتلا لوگوں کے درمیان آنے کی بجائے آج ، تمام عوامی نمائندے اپنے حلقہ سے غائب نظر آرہے ہیں۔ عوام اپنے رحم و کرم پر ہے۔ اس صورتحال میں آج کچھ گمنام سماجی کارکنان بھوکوں کا مسیحا کے طور پر ان کے درمیان ڈٹے ہوئے ہیں، ہر روز معاشرتی تعاون سے حاصل کردہ رقم کو جمع کرکے کھانا تیار کرکے ہزاروں افراد کو کھلایا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک دھرم پور سے تعلق رکھنے والے خالد انور کی ٹیم ہے۔ اس ٹیم میں پروفیسر سیف اللہ سیف ، ناظمی ، سعدیہ زینب ، سنور پروین ، شبنم ، عظمی رحیم ، شرف الالدین،محمد تنویر ، ڈاکٹر محبوب وغیرہ شامل ہیں، یہ ٹیم ایک ہفتہ سے کوئی بھوکا نہ رہے مہم” کے تحت نشاندہ دلت غریب مزدور بستی میں گھوم گھوم کر تیار کیا ہؤا کھانا پہنچاتی ہے،نہ دوسرے دن کی طرح ، جمعہ کے روز بھی،دھرم پور شہر کے مغرب، شمال جلیبیاں موڑ ،باندھ کنارے، گدا پل ، چکنور پل ، پوسافارم روڈ ، علی نگر وغیرہ میں کھانہ تقسیم کیا،پریس ریلیز جاری کر مذکورہ بمعلومات دیتے ہوئے سماجی و سیاسی کارکن سریندر پرساد سنگھ نے کہا کہ یومیہ مزدوری ، دلت ، غریب، رکشہ ڈرائیور ، بیواؤ، معذور افراد کی حالت تشویشناک ہے۔ بہت سے خاندانوں کے پاس راشن کارڈ نہیں ہیں۔اور بہت سے خاندانوں کے درمیان مشین آنے کے بعد راشن ملنا بند ہو گیا ہے، ویسے ، کنبوں کے لئے ، یہ کھانا ڈوبتے ہوئے تنکے کی طرح ہے۔ انہوں نے دوسری جماعتوں ، تنظیموں وغیرہ سے بھی اپیل کی کہ وہ بھی اس غمزدہ انسانیت کی خدمت کے لئے میدان میں آئیں۔