کرونا وائرس کے خطرات سے نمٹنے کیلئے تمام ہندوستانی اپنا سب کچھ دے رہے ہیں-انوارالہدیٰ

تاثیر اردو نیوز نیٹورک: Apr 20, 2020

پٹنہ :جمعیت علماءبہار کے ناظم نشر و اشاعت انوارالہدیٰ نے کہا کہ کرونا وائرس کے خطرات سے نمٹنے کیلئے تمام ہندوستانی اپنا سب کچھ دے رہے ہیں وہیں دوسری طرف تبلیغی جماعت کو بدنام کرکے الکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر زہر افشانی کی گئی اس کا اثر زمینی سطح پر دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ جگہ جگہ جماعت سے نفرت کا اظہار لوگ مسلمانوں سے کرنے لگے ہیں ۔ لوگ مسلمانوں سے سامان خریدنے یا تعلق قائم کرنے میں بھی نفرت ہی پیش کررہے اور ایسے حالات میں غریب اور بے سہارا لوگوں کو راحت وریلیف پہنچانے میں بھی شک و شبہات سے دیکھا جا رہاہے ۔ تازہ ترین واقعہ ۸۱ اپریل کو اورنگ آباد میں ایک واقعہ پیش آیا ۔ وہ یہ کہ ضلع جمعیت کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر مولانا محمد اوسیداپنے دو ساتھیوں کے ساتھ گاﺅں پوری ،بلاک دیو ، مفصل تھانہ میں ضرورت مندوں میں جمعیت کے طرف سے ریلیف تقسیم کرنے گئے اور تقسیم کرکے قیام گاہ پہنچے تو مفصل تھانہ سے فون آیا کہ آپ جس گاﺅں میں گئے تھے وہاں سے لوگوں نے فون سے مطلع کیا کہ دو چار داڑھی والے جماعتی مولانااس گاﺅں میں گھوم رہے ہیں اور لوگوں کو کرونا پھیلانے کیلئے روپیہ تقسیم کر رہے ہیں آپ پر ایف آئی آر کرکے گرفتار کیا جائیگا ۔ آخر آپ اس گاﺅں میں کیوں گئے تھے ©؟مولانا نے بتایا کہ جمعیت علماءہند ہندوستان کے سیکولر مسلمانوں کی ایک بڑی تنظیم ہے اور جب بھی کوئی آفات ناگہانی پیش آتی ہے تو بلا تفریق مذہب ملت قانون کے دائرے میں کام کرتی ہے ۔ جس گاﺅں میں ہم لوگ گئے وہاں لوگوں کی پریشانی کی خبر آرہی تھی اور ان کو جمعیت کی طرف سے ضرورت مندوں کو ریلیف دینے کیلئے وہاں گیا تھا ۔ جیسا کہ دوسرے مذہبی تنظیموں اور رفاہی تنظیموں کے لوگ راحت رسانی کیلئے کام کررہے ہیں اور ساتھ ہی سرکاری امداد بھی پہنچا رہے ہیں ۔ مولانا نے مزید بتایا کہ ہم نے ایک ایسے دس بارہ سال کے غریب و یتیم بچے کو ایک ہزار روپیہ سے مدد کی ہے جس کے ماں باپ کا چند ماہ قبل انتقال ہو گیا تھا ۔ اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور وہ بے سہارا ہو گیا ہے ۔ ان لوگوں کے جواب پر پولس انتظامیہ وہاں گئی اور غریب اور یتیم بچے کو جو ایک ہزار روپیہ راحت کے طور پر دیا گیا تھا وہ بھی پولس انتظامیہ نے لے لیا ۔ اسی درمیان وہاں کے مکھیا نے ضلع کلکٹر اور ایس پی کو یہ اطلاع دی کہ کچھ داڑھی والے تبلیغی جماعت کے لوگ ہمارے پنچایت میں گھوم رہے ہیں ۔ مکھیا کے اس خبر پر ڈی ایم اور ایس پی نے متعلقہ تھانہ کو حکم دیا کہ کہ اس معاملہ کی تحقیق کرکے رپورٹ کریں ۔ افسران کی اسی ہدایت پر ضلع جمعیت کے ذمہ داران کو تھانہ طلب کیا گیا ۔ جب یہ لوگ متعلقہ تھانہ پہنچے تو دیکھا کہ تھانہ میں اس علاقہ کے بی ڈی او بھی موجود تھے ۔ان لوگوں نے سوالات کئے اور جواب میں ضلع جمعیت کے ذمہ داران نے کہا کہ ہم لوگ جمعیت علماءکی طرف سے ضرورت مندوں میں ریلیف تقسیم کرنے گئے تھے ۔ اور لاک ڈاﺅن کا پورا پورا خیال بھی رکھا تھا ۔ موجود انتظامیہ نے ضلع جمعیت کے لوگوں تو تحریری طور پر تمام باتیں لکھ کر دینے کو کہا گیا ۔ کیونکہ یہ رپورٹ ڈی ایم اور ایس پی کو بھیجا جائیگا۔ تحریری طور پر لکھ کر ضلع جمعیت کے لوگ واپس اپنے گھر چلے آئے ۔ آگے دیکھنا ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا کرتی ہے ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ریلیف تقسیم کرنے گئے نہ صرف یہ کہ جمعیت کے ذمہ دار ہیں بلکہ گزیٹیڈ افسر بھی ہیں اور اس علاقہ میں سرکاری ڈاکٹر بھی ہیں ۔ اور کرونا وائرس سے لوگوں کو بھی باخبر کر رہے ہیں اور علاقہ میں ضرورت مندوں کو مدد بھی کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کو یہ معلوم ہوا کہ ڈی ایم اور ایس پی کو وہاں کے مکھیا نے خبر کی تو ڈاکٹر صاحب نے مکھیا سے دریافت کیا تو مکھیا جی نے یہ کہا کہ ہمیں کیا معلوم تھا کہ آپ وہاں گئے تھے ۔
انوارالہدیٰ ¾ نے مزید بتایا کہ ان حالات میں کرونا وائرس سے متاثر علاقوں میں ضرورت مندوں کو جماعت کی طرف سے راحت و ریلیف کیلئے جس علاقہ میں جائیں وہاں کے متعلقہ تھانہ کو اسکی اطلاع ضرور دیں اور اسکی ایک کاپی ڈی ایس پی اور علاقہ کے مکھیا کو ضرور دیں تاکہ اس طرح کے حالات کہیں اور نہ پیدا ہوں