طنزو مزاح کے میدان ایسا خلاء پیدا ہوگیا ہے جس کا پر ہونا ممکن نظر نہیں آتا:پروفیسر مظفر حنفی

تاثیر اردو نیوز سروس،27؍مئی، 2020

نئی دہلی،ہندوستان کے مشہور و معروف طنز و مزاح نگار پدم شری مجتبی حسین کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے معروف ادیب اور شاعر پروفیسر مظفر حنفی نے کہا کہ ان کے انتقال سے ان کو دلی صدمہ پہنچا ہے اور طنزو مزاح کے میدان ایسا خلاء پیدا ہوگیا ہے جس کا پر ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔انہوں نے آج یہاں جاری تعزیتی بیان میں کہا کہ مجتبٰی حسین کی وفات اردو کا بہت بڑا نقصان ہے جو کبھی بھرا نہیں جا سکتا۔اس نازک وقت میں جب خد مات اور پڑھنے لکھنے سے لوگ دور ہوتے جا رہے ہیں مجتبٰی کا جانا میرا ذاتی نقصان ہے۔انہوں نے اپنی دوستی کو یاد کرتے ہوئے کہاکہ مجتبٰی سے میری دوستی پچاس سال سے بھی پہلے کی ہے میں جب بھوپال میں تھا تب مجتبٰی حسین پر ان کی فرمایش پر ایک خاکہ لکھا تھا۔ انہوں نے کہاکہ مجتبی حسین بحیثیت خاکہ نگار بعد میں ہم دنوں 1974میں این سی آر ٹی آ گئے اور اردو کی داغ بیل ڈالی اردو کی درسی کتابوں کا بندوبست کیا یہ ایک طویل کہانی ہے جو پھر کبھی اس وقت اس طرح کی باتیں نہیں تھیں جس طرح آجکل درسی کتابوں کی اشاعت میں ہو رہی ہیں۔
مجتبٰی حسین سے تعلقات کی نوعیت گھریلو تھی وہ مالویہ نگر میں اور ہم این سی ار ٹی میں رہتے تھے مجتبٰی حسین نے بہت لوگوں پر خاکہ لکھے اور خوب ہنسایا لوگوں اور اب سب کو رلا کر چلے گئے۔ انہوں نے کہاکہ مجتبٰی حسین کے بہت سے واقعات میری کتاب’گفتگو دو بہ دو‘ میں شامل ہیں۔مجتبٰی سے آخری ملاقات میں حیدرآباد کے ایک مشاعرے میں ہوئی دن بھر ساتھ رہے پھر پچھلے ہفتے ہی انکا فون ایا تھا میری طبیعت کا سن کر افسوس کر رہے تھے اللہ انکی مغفرت فرمائے بڑا آزاد مرد تھا۔انجینئر،ادیب اور سماجی کارکن فیروز مظفر نے بھی اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مجتبٰی انکل کو یاد کیا اور کہا جاپان چلو جاپان چلو کہتے کرتے وہ آسمان پر چلے گئے۔ انہوں نے کہا مجتبٰی حسین کے بعد طنز و مزاح کا باب بند ہوا اب تو پھوہڑ باتوں اور گندے واقعات کو لوگ طنز و مزاح اور انشائیہ کہتے ہیں اسرار جامعی کا غم کیا کم تھا جو مجتبٰی حسین بھی چلے گے اللہ انکی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔اُردو کے مشہور و ممتاز ادیب اور منفرد طنز و مزاح نگار مجتبیٰ حسین کی وفات پر انجمن ترقی اردو (ہند) نے ایک تعزیتی قرارداد پاس کی جس میں ان کی شخصیت اور خدمات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کے انتقال کو اُردو زبان و ادب کا ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ انھوں نے مزاحیہ ادب کی بھرپور نمائندگی کی۔مجتبیٰ حسین صاحب نے بے شمار انشائیے، خاکے، کالم، سفرنامے اور کتابوں پر تبصرے لکھے جن کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہے۔ ان کی مطبوعات کی تعداد تقریباً دو درجن ہے۔ ان کی کچھ اہم کتابوں کے نام ہیں: تکلف برطرف (1968)، قطع کلام (1969)، قصہ مختصر (1974)، بہرحال (1974)، آدمی نامہ (1981)، بالآخر (1982)، جاپان چلو جاپان چلو (1983)، سوہے وہ بھی آدمی (1987)، چہرہ در چہرہ (1993)، سفرِ لخت لخت (1995)، آخرکار (1997)، ہوئے ہم دوست جس کے (1999)، میراکالم (1999) وغیرہ۔
مجتبیٰ حسین کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں متعدد انعامات و اعزازات سے سرفراز کیا گیا جن میں غالب ایوارڈ، کل ہند مخدوم ادبی ایوارڈ، کل ہند مہندر سنگھ بیدی ایوارڈ، اُردو اکیڈمی، کرناٹک کا کُل ہند ایوارڈ براے مجموعی خدمات، کُل ہند جوہر قریشی ایوارڈ وغیرہ شامل یں۔ 2007 میں حکومتِ ہند نے پدم شری سے سرفراز کیا۔ 2010 میں گلبرگہ یونیورسٹی کرناٹک نے مجتبیٰ حسین کو ڈی لٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا۔ مجتبیٰ حسین کی شخصیت اور فن کے مختلف پہلوؤں پر کئی ریسرچ اسکالرز نے مبسوط مقالے تحریر کرکے پی ایچ. ڈی کی ڈگری حاصل کیں۔انجمن ترقی اردو (ہند) محسوس کرتی ہے کہ مجتبیٰ حسین کی وفات سے اُردو زبان و ادب خاص طور سے طنز و مزاح کا ایسا ناقابلِ تلافی نقصان ہوا ہے جس کا پُر ہونا ممکن نہیں ہے۔ وہ بلاشبہ ہمارے عہد کے لیجنڈ ادیب اور طنز و مزاح نگار تھے۔ ہمارا پورا عہد اُن کی تحریروں میں ایک منفرد انداز سے جلوہ گر ہے۔منڈل یونیورسٹی مدھے پورہ شعبہ اردو اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر قسیم اختر نے تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے انتقال سے آج صبح طنز و مزاح کا سورج غروب اور طنز و مزاح کے ایک شاندار عہد کا خاتمہ ہوگیا۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ دنوں حیدرآباد میں مجھے معروف مزاح نگار محترم مجتبیٰ حسین صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔جب میں نے فون کر کے انہیں بتا یا کہ میں کئی دنوں سے آپ کے شہر میں ہوں اور آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔انہوں نے بہت ہی محبت کے ساتھ کہا مجھے آج ڈاکٹر کے پاس جانا تھا مگر آپ سیمانچل سے آئے ہیں اس لئے آج ڈاکٹر کے یہاں نہیں جاؤں گا،آج کا پورا دن آپ کا ہے۔